تِل سے زیادہ خوبصورت لگتاہے اوریہ( سب)اس وقت ہواجب آپ دنیامیں اللہ عزوجل کی عبادت کرتے، نمازپڑھتے اورطویل دن میں روزہ رکھتے تھے تواللہ عزوجل حضرتِ رضوان کو حکم فرماتاکہ'' وہ ہمیں(یعنی حوروں کو)اپنے پروں پر اٹھاکرلے جائے تاکہ ہم آپ کادیدار کریں اور آپ کے افعالِ حسنہ دیکھیں ۔''توہم سے حضرت رضوان علیہ السلام فرماتے :'' یہ تمہاراسردار ہے اس وقت ہم نے آپ کودیکھا اورپہچان لیااورجب کبھی ہمیں آپ کے دیدار کاشوق ہوتاتوہم محلات کے دروازوں سے نکل کرحضرت رضوان سے کہتیں :''اللہ عزوجل کی قسم !ہم اپنے محلات میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گی جب تک اپنے سرداروں کادیدار نہ کرلیں تو حضرت رضوان علیہ السلام ہمیں (آسمانِ) دنیا کی طرف لے جاتے اورہر حور اپنے سردار کودیکھ لیتی لیکن اُسے (یعنی سردار کو)اِس دیکھنے کاعلم تک نہ ہوتاتھا۔''
اگر وہ حوراپنے سردار کورات کی تاریکی میں نماز پڑھتادیکھتی تو خوش ہوکر کہتی : '' اطاعت کئے جاؤتاکہ تمہاری خدمت ہواورکھیتی اُگائے جاؤتاکہ کاٹ سکو۔اے میرے سردار!اللہ عزوجل آپ کے درجات کوبلند فرمائے اور آپ کی اطاعت کوقبول فرمائے خداعزوجل کی اطاعت میں فناء ہونے کے بعد اورطویل عمر گزارنے کے بعد اللہ عزوجل مجھے اورآپ کوملادے گا اورمیں آپ سے ملنے کے شوق میں آس لگائے بیٹھی ہوں۔''پھرہم جنت میں اپنے ٹھکانوں کی طرف لوٹ جاتی تھیں اورآپ ا س معاملے سے بے خبر دنیاہی میں ہوتے تھے ۔''اور دنیامیں کوئی بھی مؤمن ایسانہیں جس کے لئے جنت میں خدّام اورحور وغلماں نہ ہوں جواسے دیکھتے ہیں اوروہ ان سے بے خبر ہوتاہے اورجب وہ اس کوعبادت میں دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور(عبادت