Brailvi Books

نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں
116 - 133
    اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مزید ارشاد فرمایا:''پھر وہ بچھونوں ،قالینوں ،مختلف رنگ کے تکیوں،حُلّوں اور برتنوں کی طرف دیکھیں گے تو جوکوئی کسی چیز کا ارادہ کرتے ہوئے اس پر نظر ڈالے گا تو اس کے پیچھے آنے والے فرشتے اس شے کواٹھالیں گے پھر ان کاگزر بنی آدم کی تصاویر پر ہوگاتو جوصورت جنتی کی آنکھ میں اپنے چہرے سے زیادہ بھلی معلوم ہوگی تو ابھی وہ اسے دیکھے گا ہی کہ اس کاچہرہ بھی اسی جیساہوجائے گااور جس صورت کو بھی چاہے گاوہ زیب وزینت اور حسن میں اس کی صورت ہوجائے گی اور (قدرتِ الہیہ عزوجل سے) وہ (سابقہ) صور ت اس سے زائل ہوجائے گی پھر جنتی، بازار میں مختلف حُلُّوں اور پَروں کودیکھیں گے،فرشتے کہیں گے :'' جسے بھی اُڑنے کی خواہش ہے وہ ان پَروں اورحُلّوں کو پہن کر اڑ سکتاہے ۔''چنانچہ وہ اِن پَروں کو پہن لیں گے اورجہاں وہ چاہیں گے ان کے پر انہیں لے کر اُڑیں گے ۔ ''

    اس کے بعد وہ اپنے ٹھکانوں کو روانہ ہوجائیں گے اور جب اپنے محل میں داخل ہوں گے تو( ہرکسی کی )بیوی ا س سے کہے گی :''آج آپ کے حسن میں کس قدر اضافہ ہوگیااور آپ کانور کتنابڑھ گیا ہے''تووہ جنتی اس سے کہے گا:''آج میں نے اپنے مالک ومولیٰ عزوجل کا دیدار کیاتو میرے چہرے پر میرے ربِ کریم کے وجہِ کریم کانور واقع ہوا۔''پھر شوہر بیوی سے کہے گا: ''عظمت والے اللہ عزوجل کی قسم ! تمہارے چہرے کانور اور حسن بھی تو کچھ کم نہیں ۔''زوجہ کہے گی:''میراچہرہ نور سے کیوں نہ جگمگائے کہ اس پر بھی میرے رب عزوجل کا نور واقع ہواہے ۔''تو یوں جنتیوں کے چہرے انوارِ الٰہی عزوجل سے چمکتے دمکتے رہیں گے او ر یہ نعمتیں دَارُالْقَرَار(یعنی