بچھونے اور مسندیں لگائی جائیں گی پھر وہ حور آگے بڑھ کر ان کو ایسی خوش کن آواز میں حق تبارک و تعالیٰ کی حمد سنائے گی کہ اس سے اچھی آوازکسی سننے والے نے کبھی نہ سنی ہو گی اور اس میدان میں ایسے درخت ہوں گے جن کی ہر ٹہنی میں نوے (90)قسم کے ساز ہوں گے ملائکہ ان درختوں کو اس حور کے سامنے کردیں گے اور اللہ عزوجل اس حور سے فرمائے گا:''میرے ان بندوں کو(میری حمدوثناء کے نغمے )سناؤ جنہوں نے دنیامیں میری خاطرگانوں(اور باجوں)سے اپنے کانوں کوبچائے رکھااور دنیامیں میرے کلام (یعنی قرآنِ مجید)اور میرے پیارے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کوسن کر خوش ہوتے تھے ،تو آج ان کے لئے میرے ہاں خوشی اور عزت ہے ۔''
پھر حور ِعین حق تبارک وتعالیٰ کی تسبیح ،اس کی حمد،بزرگی اور وحدانیت کے نغمے گائے گی اور عرش کے نیچے سے ان سازوں پر ایسی ہوا چلے گی کہ سب لوگ حق تعالیٰ کی ملاقات کی خوشی ومسرت میں جھوم اٹھیں گے اور وجد میں آجائیں گے ،ملائکہ ان کو سونے کی کرسیاں پیش کریں گے جن پر سونے کے منقَّش بچھونے( یعنی کور) ہوں گے اوروہ سبز باریک ریشم کے ہوں گے جن کا اَستر قنادیز( یعنی اُن کا اندرونی حصہ سنگین ریشم) کا ہو گا تو سب جنتی ان کرسیوں پر بیٹھ جائیں گے ملائکہ کہیں گے کہ حق تبارک وتعالیٰ تم سے فرماتاہے :تم نے دنیا میں نماز و عبادت کی جو مشقت اٹھائی وہ کافی ہے اب تم جھوم جھوم کر اپنے اعضاء کومشقت میں نہ ڈالو اور ان کرسیوں پر بیٹھ جاؤ،یہ کرسیاں تمہیں لے کرپلک جھپکنے کی دیر تک نازوفخر سے چلیں گی ،ان میں روح اور پرہیں ، چنانچہ سب لوگ کرسیوں پر بیٹھ جائیں گے وہ کرسیاں پلک جھپکنے کی دیر تک ان