(۱)۔۔۔۔۔۔ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باِذنِ پروردگار عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم كافرمانِ عالیشان ہے : ''جب قیامت کے دن جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں چلے جائیں گے تو موت کو خوبصورت مینڈھے کی شکل میں لایاجائے گااو ر ایک منادی ندا کریگا:''اے جنتیو! چڑھ آؤ اور اے جہنمیو ! چڑ ھ آؤ ۔''تو اہل جنت اور اہل جہنم سب چڑھ آئیں گے ان سے کہا جائے گا: '' کیاتم جاننا چاہتے ہو یہ کیاہے ؟'' تو وہ کہیں گے کیوں نہیں ۔''کہاجائے گا:''یہ موت ہے ''پھر اس مینڈھے کو جنت ودوزخ کے درمیان ذبح کردیاجائے گااور منادی ندا کریگا:''اے جنتیو!تم جنت میں ہمیشہ ر ہوگے اب کوئی موت نہیں اور اے جہنمیو!تم دوزخ میں ہمیشہ رہوگے اب کوئی موت نہیں ۔''اس وقت جہنمیوں کو بہت زیادہ حسرت ہوگی اور روتے ہوئے (جہنم کی طرف)لوٹ جائيں گے اور جنتی بہت خوش ہوں گے اور (خوشی خوشی)اپنے محلات کی طرف لوٹ جائيں گے ۔
اللہ عزوجل جنتیوں کے لئے گانے والی حور عین بھیجے گااور وہ جنت کے باغات میں سفید چمکدار موتی کے ایوانوں میں بیٹھے ہوں گے جس کاطول یعنی لمبائی سو سال کی مسافت ہوگی اور اس کی چوڑائی پانچ سو سال کی مسافت ہوگی اورسب عورتیں (حضرت) فاطمۃالزہرارضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بیٹھی ہوں گی اور ایک دوسرے ایوان میں تمام مردنبی (کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم )کے حضور بیٹھے ہوں گے اور ان کے لئے