(۱)۔۔۔۔۔۔نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کافرمانِ خوشبودار ہے : ''قیامت کے دن عرش کے نیچے سے ندا کی جائے گی : ''کہاں ہیں وہ لوگ جو دنیامیں اپنی سماعت کو لہو ولعب ،باجوں اور بیکار باتوں سے بچایاکرتے تھے کہ آج میں ان کو اپنی حمدوثناء سناؤں اور خبر دوں کہ ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ کوئی غم ۔''
(۲)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم كا فرمانِ عبرت نشان ہے :''مجھے باجوں کو توڑنے کے لئے بھیجا گیا ہے اور بے شک اللہ عزوجل لَیْلَۃُالْقَدْر(یعنی شبِ قدر) میں بھی باجے بجانے والوں پر نظررحمت نہیں فرماتا۔''نیز شَبَابَۃ (یعنی سیٹی بجانا)بھی حرام ہے ۔
(۳)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنانافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں :''میں حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کے ساتھ جارہاتھاکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کسی چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو اپنی انگلیوں سے کانوں کو بند فرمالیااور راستے سے ایک طرف ہٹ کر تیز تیز چلنے لگے پھر(کچھ دور جاکر )دریافت فرمایا:''اے نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ! کیا بانسری کی آواز آنابند ہوگئی ؟''میں نے عرض کی:''جی ہاں۔ ''تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی انگلیاں کانوں سے ہٹالیں اور(اُسی) راستے کی طرف لوٹ آئے اور فرمایا:''میں نے سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھاہے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی بانسری کی آواز نہیں سنی۔''