Brailvi Books

نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں
102 - 133
ہے اور وہ اس سے ایک گدھے کے سر پر ضربیں لگارہاہے اوروہ گدھارینکتاہے پھر وہ (گدھا)آگ کی زنجیروں میں جکڑا ہواقبرسے باہر آگیاتوعذاب کے فرشتے نے اس کوواپس قبر میں دھکیل دیااور خود بھی اس کے پیچھے قبر میں داخل ہوگیااور قبر بند ہوگئی ۔

    مَیں متعجب ہوکر اس کی فکر میں مبتلاہوگیا،پھر ایک عورت سے میری ملاقات ہوئی ، میں نے اس واقعہ کے متعلق اس سے دریافت کیا تو اس نے بتایا:''یہ شخص زنا کرتا اور شراب پیتاتھا ،اس کی ماں جب اسے سمجھاتی تو یہ اس سے جھگڑتااور کہتا: ''ایسے ہی چیخے جا جیسے گدھارینکتاہے۔''جب یہ مرگیاتو اللہ تبارک و تعالیٰ نے قبر میں اس کوگدھابنادیااور اب ہر رات عذاب کافرشتہ اس کو قبر سے نکالتاہے اور اس کو مارتے ہوئے کہتاہے :''اے گدھے!رینک(یعنی گدھے کی طرح چیخ)پھر اسے زنجیروں سے گھسیٹتے ہوئے قبر میں دھکیل دیتاہے اور قبر بدستور بند ہوجاتی ہے ۔''

    لہٰذامؤمن کوچاہے کہ وہ رحمتِ الٰہی عزوجل سے دوری اور عذاب سے ڈرتے ہوئے اپنے آپ کو مشقتوں اور سختیوں کاعادی بنائے ۔

ہم اللہ عزوجل کے غضب ،جہنم اور جہنمیوں کے عمل سے اُس کی پناہ مانگتے ہیں۔