Brailvi Books

نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں
101 - 133
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا ہے تواللہ عزوجل تین سالوں کو تیس(30)سال کردیتاہے اوراگروہ اپنے والدین کے ساتھ براسلوک کرتاہے تواللہ عزوجل اس کی عمرکے تیس(30)سالوں کو تین سال یا(فرمایا)تین دن کردیتاہے ۔''

    (پھر ارشادفرمایا:)''گھروالوں اور رشتے داروں کے ساتھ حسنِ سلوک عمر کو زیادہ کرتاہے اوران پرظلم ،عمر اوررزق میں کمی کرتاہے اور اللہ عزوجل کے غضب کا سبب ہے ، اوراگراللہ تبارک و تعالیٰ قطع رحمی کرنے والے کو دنیامیں عذاب نہ دے تو اس کے عذاب کو موت کے بعد تک مؤخر فرمادیتاہے اوراس کی روح کوقیامت تک جہنم کے منہ پر واقع ''بئر برھوت ''(نامی) کنوئیں میں قید رکھاجائے گا۔''

(۹)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاك صلي اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم كا فرمانِ عبرت نشان ہے: ''جس نے والدین کی نافرمانی کی اس نے اللہ عزوجل اوراس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی اور والدین کے نافرمان کوجب قبر میں دفن کر دیاجائے گاتو قبر اس کواس طرح دبائے گی کہ اس کی پسلیاں ٹوٹ پھوٹ کرایک دوسرے میں پیوست ہوجائیں گی اور قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ سخت عذاب ان تین اشخاص کو ہوگا(۱)والدین کانافرمان(۲)زانی اور(۳)اللہ عزوجل کا شریک ٹھہرانے والا۔''
رِینکنے والا گدھا
    ایک بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :''ایک رات میں قبرستان میں داخل ہوا،میں نے ایک قبر کودیکھاکہ اس سے دُھواں نکل رہاہے پھر کیادیکھتاہوں کہ وہ قبر شق ہوئی اور اس سے ایک سیاہ فام فرشتہ نمودار ہوا ،جس کے ہاتھ میں لوہے کاگُرز
Flag Counter