ترجمہ:نماز میں گفتگو کرنا نماز کو فاسد کردیتا ہے خواہ بھول کر گفتگو کی ہو یا جان بوجھ کر خطا کے طور پر کی ہو یا قصداً کم کی ہو یا زیادہ،خواہ اس کی گفتگو نماز کی اصلاح ہی کے لئے کیوں نہ ہو مثلاً امام کو بیٹھنا تھا مگر کھڑا ہو گیا ،مقتدی نے کہا ''بیٹھ جا''یاکھڑا ہونے کا مقام تھا بیٹھ گیا،مقتدی نے کہا کھڑا ہو جا ۔تب بھی نماز فاسد ہو جائے گی۔
سوال:تراویح یا پنجگانہ نماز میں امام بقدر کفایت تلاوت کر چکاتھا اس کے بعد قراء ت میں اسے بھول ہوئی مقتدی نے لقمہ دیا امام نے لے لیا کیا لقمہ لینے کی وجہ سے امام کو سجدہ سہو بھی کرنا پڑے گا؟
الجواب بعون الملک الوھاب
جی نہیں امام پر اس صورت میں سجدہ سہو نہیں ۔سجدہ سہو اس وقت ہوتا ہے کہ جب کوئی نماز کا واجب بھولے سے رہ جائے۔فتاوی عالمگیری میں ہے
''لا یجب السجود الا بترک واجب أو تاخیرہ الی أن قالوا و فی الحقیقۃ وجوبہ بشیئ واحد وھو ترک الواجب کذا فی الکافی''
(فتاوی ھندیہ ص۶۵ج اول مکتبہ حقانیہ پشاور)
ترجمہ:سجدہ سہو واجب کو چھوڑنے یا اس میں تاخیر کرنے سے ہی واجب ہوتا ہے آگے مزید ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ سجدہ سہو کا وجوب صرف ایک ہی صورت میں ہوتا ہے وہ ہے واجب کا ترک کرنا۔
سوال:امام سے قراء ت میں بھول ہوئی مقتدی نے لقمہ دیا مگر امام نے نہ لیا تو کیا