Brailvi Books

نماز میں لقمہ کےمسائل
37 - 40
یکبر بعد القراء ۃ أو فی الرکوع مالم یرفع رأسہ کذا فی التاتارخانیہ''
            ( فتاوٰی عالمگیری ۱۶۷ج اول قدیمی کتب خانہ)
ترجمہ:جب امام تکبیرات عید بھول جائے یہاں تک کہ وہ قرأت شروع کر دے تو وہ قرأت کے بعد تکبیر کہے گایا رکوع میں کہے گا جب تک کہ سر نہ اٹھا لے اسی طرح تاتار خانیہ میں ہے۔
لہذا امام پر لازم تھا کہ جب وہ سورت شروع کر چکا تو مقتدی کا لقمہ نہ لیتا اور قرأت مکمل کرنے کے بعد تکبیرات زوائد کہتا ۔مگر اس نے لقمہ لیا تو حکم شرع کے خلا ف بے جا لقمہ لیا اور بے جا لقمہ دینے اور لینے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے پس صورت مذکورہ میں نماز فاسد ہو گئی۔ صورت مذکورہ میں فساد نماز ہی کا حکم فتاوٰی فیض رسول میں بھی بیان کیا گیا ہے۔
(فتاوٰی فیض رسول ص۴۸۶ج ۳ شبیر برادر لاہور)
سوال:امام سے کوئی غلطی ہوئی مثلاً امام کو بیٹھنا تھامگر وہ کھڑا ہو گیااور کسی جاہل مقتدی نے امام کو آگاہ کرنے کی نیت سے کہا کہ'' بیٹھ جاؤ ''کیا مقتدی کی نماز پر کوئی اثر پڑے گا؟
الجواب بعون الملک الوھاب
مقتدی کی نماز ٹوٹ گئی کہ نمازمیں کلام خواہ کسی بھی غرض سے ہو مفسد نماز ہے جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے
''اذا تکلم فی صلاتہ ناسیاًأو عامداخاطأاً أو قاصداقلیلا أو کثیرا تکلم لاصلاح صلاتہ بأن قام الامام فی موضع القعود فقال لہ مقتدی ''اقعد ''أو قعد فی موضع القیام
Flag Counter