| نماز میں لقمہ کےمسائل |
سوال: زید نماز پڑھا رہا تھا کہ دوران قرأ ت بھول گیا اس نے کہیں اور سے سورت شروع کر دی اس کے شروع کرنے کے بعد مقتدی نے لقمہ دیا ۔لقمہ دینے والے کی نماز ہوئی یا نہیں؟
الجواب بعون الملک الوھاب
لقمہ دینے والے کی نماز ہو جائے گی جیسا کہ امامِ اہلِ سنّت ،مجددِ دین و ملت، الشاہ امام احمد رضا خان رضی اللہ تعالی عنہ فتاوٰی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں ،'' صحیح یہ ہے کہ جب امام قرأت میں بھولے مقتدی کو مطلقاًبتانا روا اگرچہ قدرِ واجب پڑھ لیا ہو اگرچہ ایک سے دوسرے کی طرف انتقال ہی کیا ہوکہ صورت اولیٰ میں گو واجب ادا ہو چکا مگر احتمال ہے کہ رکنے، الجھنے کے سبب کوئی لفظ اس کی زبان سے ایسا نکل جائے جو مفسد نماز ہولہٰذا مقتدی کو اپنی نماز درست رکھنے کے لئے بتانے کی حاجت ہے ''
(فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۵۸ج۷)
ان قلت عبارۃ الھدایۃ صریحۃفی فساد الصلاۃ فی ھذہ الصورۃ حیث قال الامام المرغینانی رحمہ اللہ تعالی علیہ'' لو کان الامام انتقل الی آیۃ اخری تفسد صلوۃ الفاتح و تفسد صلوۃ الامام لو اخذ بقولہ لوجود التلقین و التلقن من غیر ضرورۃ۔
(ہدایہ اولین باب ما یفسد الصلوۃ ۱۳۶ مکتبہ شرکت علمیہ ملتان )
اقول: ما ذکر صاحب الھدایۃھو مرجوح کما بینّھا امام اہل السنۃ مجدد الدین و الملۃالمفتی الحافظ القاری مولانا أحمد رضا خان علیہ