| نماز میں لقمہ کےمسائل |
رحمۃ الرحمن عن حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی کما فی الفتاوٰی رضویہ (متن المنیۃ)و ان انتقل الامام الی آیۃ اخریٰ ففتح علیہ بعد الانتقال تفسد (شرح المنیۃ)لوجود التلقین من غیر ضرورۃ کذا فی الھدایہ و غیرھا و جعل صاحب الذخیرۃ ھذا محکیاعن القاضی الامام ابی بکر الزرنجری و انّ غیرہ من المشائخ قالوا لاتفسد کذا نقلوا عن المحیط وأخذ من ھذا صاحب النھایۃ أنّ عدم الفسادقول عامۃ المشائخ و وافقہ شیخنا رحمہ اللہ تعالی علی ذلک وھو الاوفق لاطلاق الرخص الذی رویناہ ملخصاً
(فتاوٰی رضویہ ص۲۶۳ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وفی الھندیۃ '' أما اذا قرأ أوتحول ففتح علیہ تفسد صلوۃ الفاتح والصحیح أنھا لا تفسد صلوۃ الفاتح لکل حال ولا صلوۃ الامام لو أخذ منہ علی الصحیح ھکذا فی الکافی
(فتاوی ھندیۃ ص۹۹ جلد اول مکتبہ حقانیہ پشاور )
سوال: زید تراویح پڑھا رہا تھا کہ دو رکعت پر تشہد میں بیٹھا ،پچھلی صفوں میں سے نمازیوں نے لقمہ دیا ان کے گمان میں ایک رکعت ہوئی تھی امام نے ان کا لقمہ نہیں لیا بلکہ تشہد پڑھ کر سلام پھیرا لقمہ دینے والوں کی نماز ہوئی یا نہیں ؟
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مذکورہ میں جو لقمہ دیا گیا وہ بے محل دیا گیا اور بے حاجت لقمہ دینے کا حکم یہ ہے کہ ایسا لقمہ دینے والے کی نماز فاسد ہو جاتی ہے لہذا جنہوں نے لقمہ دیا ان کی نماز