Brailvi Books

نماز میں لقمہ کےمسائل
33 - 40
سہوکیا تو نماز ہوئی یا نہیں؟
الجواب بعون الملک الوھاب
جو شخص دعائے قنوت پڑھنا بھول جائے اور رکوع میں چلا جائے تو اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ دعائے قنوت پڑھنے کے لئے رکوع سے پلٹے بلکہ حکم ہے کہ وہ نماز پوری کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرے پھر اگر خود ہی یاد آجائے اور رکوع سے پلٹ کر دعائے قنوت پڑھے تو اصح یہ ہے کہ گناہ گار ہوا مگر نما زفاسد نہ ہوئی۔جیسا کہ امامِ اہلِ سنّت، مجددِ دین و ملت، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃالرحمن اسی قسم کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں '' (رکوع میں ) تسبیح پڑھ چکا ہو یا ابھی کچھ نہ پڑھنے پایا ہو اُسے قنوت پڑھنے کے لئے رکوع چھوڑنے کی اجازت نہیں اگر قنوت کے لئے قیام کی طرف عود کیا گناہ کیا پھر قنوت پڑھے یا نہ پڑھے اُس پر سجدۂ سہو ہے'' (جبکہ بھول کر واپس آیا ہو)۔
             ( فتاوٰی رضویہ ص۲۱۲ج۸رضا فاؤنڈیشن لاہور)
چنانچہ صورت مذکورہ میں مقتدی نے نماز کی اصلاح کی خاطر جو لقمہ دیاوہ درست نہ تھا کہ اس کا لقمہ دینا اس جگہ اصلاحِ نماز نہیں کہ خود امام کو منع ہے کہ وہ رکوع سے واپس لوٹے لھذااس نے بے محل لقمہ دیا جس کی بنا پر اس کی نماز فاسد ہوگئی پھر امام اس کے بتانے سے پلٹا تو امام کی بھی فاسد ہوگئی کہ اس نے اس کا لقمہ لیا جو نماز سے باہر تھااور اس کے سبب کسی کی بھی نماز نہیں ہوئی۔یہی حکم فتاویٰ فیض الرسول میں بھی بیان کیا گیا ہے۔
(فتاوٰی فیض الرسول ص۳۸۶جلد اول شبیر برادرز لاہور)
Flag Counter