Brailvi Books

نماز میں لقمہ کےمسائل
32 - 40
            ( فتاوی امجدیہ ص۱۸۷ج اول مکتبہ رضویہ کراچی)
ترجمہ:میں دیکھتا ہوں کہ جب کوئی نماز میں بھولتا ہے تو تم میں سے اکثر ہاتھ پر ہاتھ مار کر اسے متوجہ کرتے ہوپس اگر کوئی نماز میں بھولے تو تسبیح کہو کہ جب کوئی تسبیح کہے گا تو امام لوٹ آئیگا اور تصفیق یعنی ہاتھ پر ہاتھ مارنا تو صرف عورتوں کے لئے ہے۔
سوال: بعض لوگ کہتے ہیں تین آیت کے بعد لقمہ نہیں دینا چاہیے اگر کوئی دے تو اس کی نماز فاسد ہو جاتی ہے کیا یہ درست ہے؟
الجواب بعون الملک الوھاب
لوگوں کا یہ خیال غلط ہے ،امامِ اہلِ سنّت، مجددِ دین و ملت ،الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی رضویہ شریف میں ارشاد فرماتے ہیں ''امام جہاں غلطی کرے، مقتدی کو جائز ہے کہ اسے لقمہ دے اگرچہ کہ ہزار آیتیں پڑھ چکا ہو،یہی صحیح ہے ردالمحتار میں ہے
''الفتح علی امامہ غیر منھی عنہ بحر ''
 ترجمہ : اپنے امام کو لقمہ دینا منع نہیں ۔ اسی میں ہے
سواء قرء الامام قدر ما یجوز بہ الصلوۃ ام لاإنتقل الی آیۃ أخری أم لا تکرر الفتح ام لا ہو الاصح نہر''
ترجمہ: خواہ امام نے اتنی قرأت کر لی ہو جو نماز کے لئے کافی تھی یا نہ کی ہو ، خواہ وہ دوسری آیت کی طرف منتقل ہو گیا ہو یا نہ ہوا ہو ، لقمہ بار بار دیا ہو یا ایک ہی بار دیا ہو یہی اصح ہے۔
(فتاوٰی رضویہ ص۳۷۱ج۶رضا فاؤنڈیشن لاہور ،ردالمحتارص۳۸۲مکتبہ امدادیہ ملتان )
سوال : امام تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا گیا اور دعاء قنوت پڑھنا بھول گیا پھر مقتدی کے لقمہ دینے پر رکوع سے واپس ہوا ،دعائے قنوت پڑھی پھر رکوع کیا اور آخر میں سجدہ
Flag Counter