ترجمہ:حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے آپ نے سورۂ نجم پڑھی اسی دوران آیت سجدہ پر سجدہ کر کے جب قیام کی طرف لوٹے تو آپ بھول گئے کسی نے ''اِذَا زُلْزِلَتُ الْاَرْضُ''کا لقمہ دیا پس آپ نے یہی آیت پڑھی اور اس پر کسی صحابی نے بھی انکار نہ کیا۔
جب انتقال رکن یعنی ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف آنے میں سہو ہو توبہتر یہ ہے کہ تسبیح کے ذریعے لقمہ دے تکبیر کہی تو یہ بھی جائز ہے ۔ چنانچہ تاتارخانیہ میں ہے
''المصلی اذا کبر بنیۃ أن یعلم غیرہ أنہ فی الصلاۃ لا تفسد صلاتہٗالاولی التسبیح لقولہ صلی اللہ علیہ و سلم ''التسبیح للرجال و التصفیق للنساء'' ''
(فتاوی تاتار خانیہ ص۵۷۵ج اول ادارۃ القران)
فتاوی امجدیہ میں ہے''مقتدی کو ایسے موقع پر(جب امام انتقال رکن میں بھول جائے)جبکہ امام کو متوجہ کرنا ہو
کہے جس سے امام کو خیال ہو جائے اور نماز کو درست کر لے صحیح بخاری شریف و غیرہ میں حدیث ہے
''ما لی رأیتکم اکثرتم التصفیق من نابہ شیئ فی صلاتہ فلیسبح فانہ اذا سبح التفت الیہ و انما التصفیق للنسا ''