Brailvi Books

نماز میں لقمہ کےمسائل
30 - 40
حاجت متحقق ہونے کی وجہ سے لقمہ دینا چاہیے کہ اب نہ بتانے میں خلل وفسادِ نماز کا اندیشہ ہے کہ امام تو اپنے گمان میں نماز تمام کرچکا۔
        ( ماخوذ از فتاوٰی رضویہ ۲۶۴ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور )
سوال: لقمہ کن الفاظ کے ساتھ دینا چاہیے؟
الجواب بعون الملک الوھاب
جب امام قرآن بھولے تو جو بھولا ہے وہ بتائے، بہتر یہ ہے کہ جہاں سے بھولا ہے اس کے پیچھے کی آیت بتائے پھر وہ آیت جو یہ بھولا ہے جیسا کہ فتاوی تاتار خانیہ میں ہے
''و فی الفتاوی الحجۃو الاولی اذا فتح علی امامہ أن یقرأ آیۃ قبلھا ثم وصلھا بما معہ کیلا یشبہ التعلیم و التعلّم و ھذا لیس بلازم ''
 (فتاوی تاتار خانیہ ص۵۸۱ج اول ادارۃ القران)
ترجمہ:فتاوی حجہ میں ہے اولی یہ ہے کہ جب اپنے امام کو لقمہ دے تو پہلے ما قبل کی آیت پڑھے پھر بعد والی کو ملائے تاکہ حتی الامکان اس کا لقمہ دینا تعلیم و تعلّم کے مشابہ نہ ہو لیکن اس طرح کرنا یعنی ما قبل کی آیت سے لقمہ دینا لازم نہیں ۔یعنی جو بھولا ہے صرف وہ بتا دی تب بھی درست ہے۔
اگر امام سورۃ میں سے کچھ پڑھتے پڑھتے بھول گیاآگے یاد نہیں آتا تو یہ بھی جائز ہے کہ کسی اور سورۃ کا لقمہ دے دیا جائے چنانچہ محیط برھانی میں ہے
''و عن عمررضی اللہ عنہ أنہ قرأ سورۃ النجم و سجد فلما عاد الی القیام ارتج علیہ
Flag Counter