مقتدی کی نماز فاسد ہوگئی کہ جب امام کو قعدہ اولیٰ میں دیر ہوئی اور مقتدی نے اس گمان سے کہ یہ قعدہ اخیر ہ سمجھا ہے تنبیہ کی تو دو حال سے خالی نہیں یاتو واقع میں اس کا گمان غلط ہوگا یعنی امام قعدہ اولیٰ ہی سمجھا ہے اور دیر اس وجہ سے ہوئی کہ اس نے اس بار التحیات زیادہ ترتیل سے ادا کی جب تو ظاہر ہے مقتدی کا بتانا نہ صرف بے ضرورت بلکہ محض غلط واقع ہوا تو یقینا مفسدِنماز ہوا ۔ اس کے بر خلاف اگر معاملہ یہ تھا کہ اس کا گمان واقعی درست تھا یعنی امام نے قعدہ اولیٰ کو قعدہ اخیرہ سمجھا تھا تب بھی اس کا بتانا محض لغو وبے حاجت ہے اور اصلاح ِنماز سے اس کا کوئی تعلق نہیں کہ جب امام اتنی تاخیر کر چکا جس سے مقتدی اس کے سہو پر مطلع ہوا تو لاجرم یہ تاخیر بقدر کثیر ہو ئی اور جو کچھ ہونا تھا یعنی واجب کا ترک ہونا اور سجدہ سہو کا لازم ہونا وہ ہو چکا، اب اس کے بتانے سے اس کا ازالہ نہیں ہو سکتا اور اس سے زیادہ کسی دوسرے خلل کا اندیشہ نہیں جس سے بچنے کو یہ فعل کیا جائے لہذا مقتضائے نظر ِفقہی (یعنی فقہی نظر کا تقاضا یہ ہے کہ)اس صورت میں بھی فسادِ نماز ہے ۔ نظیر اس کی یہ ہے کہ جب امام قعدہ اولیٰ کو چھوڑ کر پورا كکھڑا ہو جائے تو اب مقتدی بیٹھنے کا اشارہ نہ کرے ، ورنہ ہمارے امام کے مذہب پر مقتدی کی نماز جاتی رہے گی کہ پورا کھڑا ہونے کے بعد امام کو قعدہ اولی کی طرف عود کرنا، ناجائز تھا تو مقتدی کا بتانا محض بے فائدہ رہا اور اپنے اصلی حکم کی رو سے کلام ٹھہر کر مفسد نماز ہوالیکن جس وقت امام سلام پھیر نا شروع کرنے لگے تو اب