اگرامام ابھی پورا سيدھا کھڑا نہ ہونے پايا تھا کہ مقتدی نے بتايا اور وہ (يعنی امام )بيٹھ گيا تو سب کی نماز ہوگئی اور سجدہ سہو کی حاجت نہ تھی اور اگر امام پورا کھڑا ہوگيا تھا اس کے بعد مقتدی نے بتايا تو مقتدی کی نماز اسی وقت جاتی رہی اور جب اس کے کہنے سے امام لوٹا تو اسکی بھی گئی اور سب کی گئی اور اگر مقتدی نے اس وقت بتايا تھا کہ امام ابھی پورا سيدھا نہ کھڑا ہوا تھا کہ اتنے ميں پورا سيدھا ہوگيا اس کے بعد لوٹا تو مذہب اصح ميں نماز ہوتو سب کی گئی مگر مخالفت حکم کے سبب مکروہ ہوئی کہ سيدھا کھڑا ہونے کے بعد قعدۂ اولی کے لئے لوٹنا جائز نہيں۔ نماز کا اعادہ کريں خصوصاً ايک مذہب ِقوی پر نماز ہوئی ہی نہيں تو اعادہ فرض ہے۔