Brailvi Books

نماز میں لقمہ کےمسائل
27 - 40
،مجددِ دین و ملت ،الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں''ہمارے امام رضی اللہ عنہ کے نزدیک اصل ان مسائل میں یہ ہے کہ بتانا اگرچہ لفظاًقراء ت یا ذکر مثلاًتسبیح اور تکبیر ہے اور یہ سب اجزاء و اذکار نماز سے ہیں مگر(یہ بتانا) معنًی کلام ہے کہ اس کا حاصل امام سے خطاب کرنا اور اسے سکھانا ہوتا ہے یعنی تو بھولا اس کے بعد تجھے یہ کرنا چاہے۔ پر ظاہر کہ اس سے یہی غرض مراد ہوتی ہے اور سامع کو بھی یہی معنیٰ مفہوم، تو اس کے کلام ہونے میں کیا شک رہا اگرچہ صورۃًقران یا ذ کر و لھذا اگر نماز میں کسی یحيٰ نامی کو خطاب کی نیت سے یہ آیت کریمہ
یٰیَحْیٰی خُذِ الْکِتٰبَ بِقُوَّۃٍ ؕ
 پڑھی بالاتفاق نماز جاتی رہی حالانکہ وہ حقیقۃًقرآن ہے اس بنا پر قیاس یہ تھا کہ مطلقاًبتانا اگرچہ بر محل ہو مفسد نماز ہو ،کہ جب وہ بلحاظ معنی کلام ٹھہرا تو بہر حال افسادِنماز کریگا(یعنی نماز توڑ دے گا) مگر حاجتِاصلاحِ نماز کے وقت یا جہاں خاص نص وارد ہے ہمارے ائمہ نے اس قیاس کو ترک فرمایا بحکم استحسان جس کے اعلی وجوہ سے نص و ضرورت ہے جواز کا حکم دیا ۔ ''
    (فتاوٰی رضویہ ص۲۵۸ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور)
مذکورہ بالاضابطہ پر کثیر مسائل کا استخراج ہوتا ہے جیسا کہ سوال جواب کی صورت میں آنے والے مسائل سے بخوبی معلوم ہو جائے گا۔
Flag Counter