لھذا جہاں فساد معنی کا شبہ ہو وہاں اپنے طور پر کوئی فیصلہ کرنے کے بجا جید علماء سے رجوع کیا جائے۔ (26) لقمہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ اصل میں لقمہ دینا مقتدی کی طرف سے امام کو کچھ سکھانا اور امام کا مقتدی سے سیکھنا ہے ۔ حالتِنماز سیکھنے اور سیکھانے کا موقع نہیں بلکہ یہ امور نماز کے فاسد ہو جانے کا باعث ہیں مگر ضرورت کی جگہ پریا ان مقامات پر جہاں لقمہ دینے کے بارے میں نص وارد ہے شریعت نے اس کی اجازت دی اور ضرورت اور نص میں بیان کردہ جگہ کی حد تک نماز میں لقمہ دینے اور لینے والے پرسے نماز ٹوٹنے کا حکم معاف رکھا بدائع الصنائع میں ہے
''اذا عرض للاما م شیئ فسبح الماموم لا بأس بہ لان القصد بہ اصلاح الصلوۃ فسقط حکم الکلام عنہ للحاجۃ الی الاصلاح ''
(بدائع الصنائع ص۲۳۵جلد اول،ایچ ایم سعید)
جب امام کو کچھ بھول واقع ہو تو مقتدی کے لقمہ دینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ اس کا ا رادہ نماز کی اصلاح کا ہے اس لئے حاجت کی بنا پر اس کے لقمہ دینے پر کلام ہونے کا حکم ساقط کر دیا گیا۔
لیکن جہاں کہیں بے محل(یعنی جہاں اجاز ت نہیں تھی وہاں) لقمہ دیا گیاتو نماز ٹوٹنے کا اصل حکم لوٹ آئیگا۔ مثلاً جب امام کو واپس آنے کی اجازت نہ ہو تو ایسے موقع پر لقمہ دینا بے محل ہے اور کسی نے لقمہ دیا تواس کی نماز گئی۔ جیسا کہ امامِ اہلِ سنّت