ترجمہ: بے محل لقمہ دینے پر ایک دفعہ دینے سے ہی نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ (24) لقمہ دینے والے کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ قرآن پاک دیکھ کر لقمہ دے کہ مصحف دیکھ کر لقمہ دینا،لقمہ دینے والے کی نماز کو فاسد کر دیتا ہے کہ نماز میں مصحف شریف سے دیکھ کر قران پڑھنا مطلقاًمفسدِنماز ہے یوں ہی اگر محراب و غیرہ میں لکھا ہو اسے دیکھ کر پڑھنا بھی مفسدِنماز ہے ہاں اگر یاد پر پڑھتا ہو مصحف یا محراب پر فقط نظرپڑ گئی تو حرج نہیں
(درمختار ،ردالمحتار ص ۳۸۴ج۲مکتبہ امدادیہ ملتان)
چنانچہ جس صورت میں اس کی نماز ٹوٹ جاتی ہے اس نے امام کو لقمہ دیا تو اس کی نماز بھی گئی کہ اس کے مصحف و غیرہ سے دیکھ کر نماز پڑھتے ہی خود اس کی نماز فاسد ہو گئی اور وہ نماز سے خارج ہو گیا اور نماز سے خارج کا لقمہ لینے پر امام کی نماز بھی فاسد ہو گئی ۔ (25) کہاں غلطی مفسدِ نماز ہے اور کہاں نہیں اس کا معلوم پڑنا اور وہ بھی نماز کی حالت میں ہر ایک کا کام نہیں جیسا کہ امامِ اہلِ سنّت، مجددِ دین و ملت ،الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں '' غلطی کا مفسد ِمعنی ہونا(یعنی غلطی ایسی ہو جس سے معنی فاسد ہو جائیں) مبنائے افساد نماز(نماز کے فسادکی وجہ) ہے،ایسی چیز نہیں جسے سہل (آسانی سے)جان لیا جائے ، ہندوستان میں جو علماء گنے جاتے ہیں ان میں چند ہی ایسے ہو سکیں کہ نماز پڑھتے میں اس پر مطلع ہو جائیں ہزار جگہ ہو گا کہ وہ افساد گمان کریں گے اور حقیقۃً فساد نہ ہو گا جیسا