(22) یوں ہی امام کو مکروہ ہے کہ مقتدیوں کو لقمہ دینے پر مجبور کرے بلکہ کسی دوسری سورت کی طرف منتقل ہو جائے یا دوسری آیت شروع کر دے بشرطیکہ اس کا وصل(ملانا) مفسدِ نماز نہ ہو اور اگر بقدر حاجت پڑھ چکا ہے تو رکوع کرے مجبور کرنے کے یہ معنی ہیں کہ بار بار پڑھے یا ساکت کھڑا رہے۔ جیساکہ فتاوٰی عالمگیری میں ہے
''و لاینبغی للامام أن یلجئہم الی الفتح لانہ یلجئہم الی القراء ۃ خلفہ و أنہ مکروہ بل یرکع ان قرأ قدر ما تجوز بہ الصلاۃ و الا ینتقل الی آیۃ اخری کذا فی الکافی و تفسیر الالجاء أن یرددالآیۃ او یقف ساکتا کذا فی النہایۃ''
(عالمگیری ج ۱ ص ۹۹ مکتبہ حقانیہ پشاور)
ترجمہ'' امام کو چاہے کہ مقتدی کو لقمہ دینے کی طرف مجبور نہ کرے کیونکہ وہ ان کو اپنے پیچھے قرا ء ت کرنے پر مجبور کریگا اور یہ مجبور کرنا مکروہ ہے بلکہ اسے چاہیے کہ اگر اتنی قرأت کر چکا تھا جو نماز کے صحیح ہونے کیلئے کافی تھی تو رکوع کر لے یا کسی اور آیت کی طرف منتقل ہوجائے اور ان کو مجبور کرنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ بار بار آیت کی تکرار کرتا رہا یا پھر خاموش کھڑا رہاــ''۔ (23) جہاں لقمہ نہیں دینا تھا وہاں ایک ہی دفعہ لقمہ دینے سے نماز ٹوٹ جائے گی نماز ٹوٹنے کے لئے لقمہ کی تکرار شرط نہیں فتاوی عالمگیری میں ہے
''و تفسد صلاتہ بالفتح مرۃ و لا یشترط فیہ تکرارا و ھو الاصح