| نماز میں لقمہ کےمسائل |
خود یقین نہیں تو مبیح میں شک واقع ہوا اور محرم موجود ہے لھذا حرام ہوا جب اسے شبہ ہے ممکن کہ اسی کی غلطی ہواور غلط بتانے سے اس کی نماز جاتی رہے گی اور امام اخذ کریگا تو اس کی اور سب کی نماز فاسد ہوگی تو ایسے امر پر اقدام جائز نہیں ہو سکتا
(فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۸۷ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور)
(19) مقتدی کو شک ہوا کہ امام نے کچھ چھوڑ دیا ہے حالانکہ امام نے درست پڑھا تھالھذا اس نے لقمہ دیااور امام نے لے لیا سب کی نماز جاتی رہی اگر امام نے نہ لیا توصرف لقمہ دینے والے کی گئی جیسا کہ امامِ اہلِ سنّت، پروانہ ِشمعِ رسالت ،مجددِ دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں ''جب اسے شبہ ہو تو ممکن ہے کہ اسی کی غلطی ہو اور غلط بتانے سے اس کی نماز جاتی رہے گی اور امام اخذ کرے گا تو اس کی اور سب کی نماز فاسد ہو گی ''
(فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۸۷ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور)
(20) تراویح میں سہواً غلط بتانا مفسد نماز نہیں تیسیراً یہی حکم ہے
الیہ مال امام اہل السنۃ مجدد الدین والملۃ الامام أحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فی الفتاوٰی الرضویۃ ۔
(فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۸۴ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور)
(21) فوراً ہی لقمہ دینا مکروہ ہے بلکہ تھوڑا توقف چاہیے کہ شاید امام خود نکال لے فتاوٰی شامی میں ہے
''یکرہ ان یفتح من ساعتہ
( رد المحتار ص۳۸۲ج۲مکتبہ امدادیہ)
مگر جب کہ اس کی عادت اسے معلوم ہو کہ رُکتا ہے تو بعض