Brailvi Books

نماز میں لقمہ کےمسائل
22 - 40
قضاء پر کہ ظاہر پر حکم لگائیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ کیا تو نہیں دیکھتاکہ اگر کوئی اپنے امام کے علاوہ غیر کو تلاوت کی نیت کرتے ہوئے لقمہ دے تو اس کی نماز فاسد نہ ہوگی اگرچہ کہ ظاہری حالت عمل تعلیم کو ظاہر کرتی ہے
(17) اپنے امام کو لقمہ دینا اور امام کا لقمہ لینا مفسد نہیں ہاں اگر مقتدی نے دوسرے سے سُن کر جو نماز میں اس کا شریک نہیں ہے لقمہ دیا اور امام نے لے لیا تو سب کی نماز گئی اور امام نے نہ لیا تو صرف اس مقتدی کی گئی۔
 (بہار شریعت ص۱۵۱حصہ ۳مکتبہ رضویہ)
فتاوٰی شامی میں ہے
أن المؤتم لما تلقن من خارج بطلت صلاتہ فإذافتح علی امامہ و أخذ منہ بطلت صلاتہ
(ردالمحتار ص۳۸۲ج۲مکتبہ امدادیہ ملتان)
 ترجمہ:جب مقتدی نے خارج سے لقمہ لیا تو خود اس کی نماز ٹوٹ گئی پس جب وہ امام کو لقمہ دے اور وہ لے لے تو اس کی نماز بھی ٹوٹ جائے گی۔
(18) مقتدی کو شبہ ہوا کہ امام کچھ چھوڑ گیا ہے مگر اسے یقین حاصل نہیں اس شبہ کی کیفیت میں اُس وقت لقمہ دیناجائز ہوگاکہ جب اسے یہ گمان ہو کہ امام نے جو چھوڑا ہے اگر نہ بتایا گیا تو نماز فاسد ہو جائے گی تو یقین نہ ہونے کے باوجود لقمہ دینا جائز ہوگااگر فساد نماز کا پہلو نہ ہو توپھر محض شبہ پر بتانا ہرگز جائز نہیں۔جیسا کہ امام اہل سنت رضی اللہ عنہ فتاوی رضویہ شریف میں ارشاد فرماتے ہیں 

''جب غلطی مفسدِ نماز نہ ہو تو محض شبہ پر بتانا ہرگز جائز نہیں بلکہ صبر واجب ہے۔ آگے مزید ارشاد فرماتے ہیں حرمت کی وجہ ظاہر ہے کہ فتح(لقمہ)حقیقۃً کلام ہے اور نماز میں کلام حرام و مفسد نماز مگر بضرورت اجازت ہوئی جب اسے غلطی ہونے پر
Flag Counter