| نماز میں لقمہ کےمسائل |
کے علاوہ کسی کو لقمہ دیا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی لیکن جب اس کے سکھانے کے بجائے تلاوت کی نیت کی ہو تو نماز فاسد نہ ہو گی اسی طرح محیط میں ہے۔
(16) اپنے مقتدی کے سوا دوسرے کا لقمہ لینا بھی مفسدِ نماز ہے البتہ اگر اس کے بتاتے وقت اسے خود یاد آگیا اس کے بتانے سے نہیں یعنی اگر وہ نہ بتاتا جب بھی اسے یاد آجاتا اس کے بتانے کو دخل نہیں تو اس کا پڑھنا مفسد نہیں۔ فتاوی شامی میں ہے
''ان حصل التذکر بسبب الفتح تفسد مطلقا ای سواء شرع فی التلاوۃ قبل تمام الفتح أو بعدہ لوجود التعلم و ان حصل تذکرہ من نفسہ لا بسبب الفتح لا تفسد مطلقا وکون الظاہر أنہ حصل بالفتح لا یؤثر بعد تحقق أنہ من نفسہ لأن ذالک من أمور الدیانۃ لا القضاء حتی یبنی علی الظاہر ألا تری أنہ لو فتح علی غیرہ امامہ قاصداً القراء ۃ لا التعلیم لا تفسد مع أن ظاہر حالہ التعلیم ''۔
(ردالمحتار ص ۳۸۲ج۲ مکتبہ امدایہ )
ترجمہ:ایسی صورت میں اگر امام کو لقمے کی وجہ سے یاد آیا تو مطلقاً نماز فاسد ہو جائے گی خواہ امام نے لقمہ ختم ہونے سے پہلے تلاوت شروع کر دی ہو یا لقمہ ختم ہونے کے بعد شروع کی ہو ، تعلّم کے پائے جانے کی وجہ سے اور اگراسے خود ہی یاد آگیا ہونہ کہ لقمے کی وجہ سے یعنی اگر لقمہ نہ آتا تب بھی اسے یاد آجاتاتو ایسی صورت میں مطلقاً نماز نہ ٹوٹے گی۔یہ بات ظاہر ہے کہ جب یہ ثابت ہو جائے کہ لقمہ ازخود آیا ہے تو لقمہ کا آنا نماز پر اثر نہیں ڈالے گااور از خود یا د آنے یا نہ آنے کا معاملہ دیانت پر موقف ہے نہ کہ