Brailvi Books

نماز میں لقمہ کےمسائل
20 - 40
کے لیے ذرا ذرا شبہ پر روکنا ریا ہے اور ریا حرام ہے خصوصاً نماز میں۔
(فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۸۷ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور)
(14) مُصَلِّی (نمازی)نے اپنے امام کے سوا دوسرے کو لقمہ دیا (تو لقمہ دينے والے کی)نماز جاتی رہی جس کو لقمہ دیا ہے وہ نماز میں ہو یا نہ ہو، مقتدی ہو یا منفرد یا کسی اور کا امام ۔
 (بہار شریعت ص ۱۵۰ حصہ۳مکتبہ رضویہ )
یوں ہی ردالمحتار میں ہے
وفتحہ علی غیر امامہ لانہ تعلم و تعلیم من غیر حاجۃ بحرو ھو شامل لفتح المقتدی علی مثلہ و علی المنفرد و علی غیر المصلی و علی امام الآخر۔
(ردالمحتار ص۳۸۱ج۲مکتبہ امدایہ ملتان)
ترجمہ : اوراپنے امام کے علاوہ کسی اور کو لقمہ دینا اس کی نماز کو فاسد کردے گا کہ لقمہ دینا تعلیم و تعلّم ہے (جو نماز میں حاجت کے وقت تو درست ہے ) اور یہاں حاجت نہ ہونے کے باعث نماز فاسد کرنے کا باعث ہو گا ایسا ہی بحر میں ہے کہ ''اپنے امام کے غیر کو لقمہ دینا''ان سب صورتوں کو شامل ہے جن میں مقتدی ، مقتدی کو لقمہ دے ،منفرد کو لقمہ دے،یا غیر نمازی کو لقمہ دے یا اس امام کو لقمہ دے جس کی اقتداء میں نہ ہو۔ یعنی ان صورتوں میں بھی نماز فاسد ہو جائے گی۔

(15) مُصَلِّی(نمازی) جب اپنے امام کے سوا کسی اور کو لقمہ دے مگر بہ نیتِتلاوت دے نہ کہ اس کو بتانے کی غرض سے تو اس کی نماز فاسد نہ ہو گی چنانچہ فتاوٰی عالمگیری میں ہے
و لو فتح غیر امامہ تفسد لا اذا اعنی بہ التلاوۃ دون التعلیم کذا فی المحیط
(فتاوٰی ہندیہ ص۹۹ج۱ مکتبہ حقانیہ پشاور)
 ترجمہ:اگر اپنے امام
Flag Counter