Brailvi Books

نماز میں لقمہ کےمسائل
19 - 40
امامہ غیر منھی عنہ
(ردالمحتار ص۳۸۲ج۲مکتبہ امدادیہ ملتان)
ترجمہ:کیونکہ قراء ت سے مقتدی کو منع کیا گیا ہے جبکہ لقمہ دینا اسے منع نہیں ۔(لھذا جو منع ہے اس کی نیت نہ کرے)
(12) دیکھا گیا ہے کہ ایک تراویح پڑھانے والے کے پیچھے کئی کئی حافظ کھڑے لقمے دے رہے ہوتے ہیں انھیں اپنی نیت کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے اگر ان کی نیت حافظ صاحب کو پریشان کرنے کی ہوئی تو ایسا کرنا حرام ہو گاامامِ اہلِ سنّت، مجددِ دین وملت، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں ''قاری(پڑھنے والے) کو پریشان کرنے کی نیت حرام ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں
بشروا و لاتنفروا و یسروا و لا تعسروا ''
ترجمہ : لوگوں کو خوشخبریاں سناؤ نفرت نہ دلاؤ ،آسانی پیدا کرو تنگی نہ کرو۔اور بے شک آج بہت سے حفاظ کا یہ شیوہ ہے، یہ بتانا نہیں بلکہ حقیقۃً یہود کے اس فعل میں داخل ہے(جس کا ذکر قران پاک میں ہوا ،فرمایا گیا)
'' لَا تَسْمَعُوۡا لِہٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیۡہِ''
ترجمہ کنزالایمان:(کافر کہتے ہیں) یہ قرآن نہ سنو اور اس میں بے ہودہ غل (شور)کرو۔(پارہ ۲۴سورۃحم السجدۃ آیت ۲۶)
(فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۸۷ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور)
(13) اگر کسی کی نیت امام کو پریشان کرنے کی تو نہ ہو مگر اپنا حفظ جتلانا مقصود ہو تو یہ بھی حرام ہے۔ جیسا کہ امامِ اہل سنّت مجددِ دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی رضویہ شریف میں ارشاد فرماتے ہیںــ'' اپنا حفظ جتانے
Flag Counter