Brailvi Books

نماز میں لقمہ کےمسائل
18 - 40
چاہیے کہ بعدِ سلام امام کو اطلاع دے، امام دوسری تراویح میں اتنے الفاظِ کریمہ کا صحیح طور پر اعادہ کر لے مگر اولی یہی تھا کہ اسی وقت بتاتا۔
(ماخوذ از فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۸۲ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور)
(9) بالغ مقتدیوں کی طرح تمیز دار بچہ بھی لقمہ دے سکتا ہے ۔
(فتاوی رضویہ شریف ص۲۸۴ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور عالمگیری ص۹۹ج اول مکتبہ حقانیہ )
جبکہ نماز آتی ہو۔
 (10) جسے سامع مقرر کیا گیا اس کے علاوہ دوسرا مقتدی بھی لقمہ دے سکتا ہے جیسا کہ امام اہل سنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی رضویہ شریف میں ارشاد فرماتے ہیں ''قوم کا کسی کو سامع مقرر کر دینے کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ اس کے غیر کو بتانے کی اجازت نہیں اور اگر کوئی اپنے جاہلانہ خیالات سے یہ قصد کرے بھی تو اس کی ممانعت سے وہ حق کہ شرع مطہر نے عام مقتدیوں کو دیا کیونکر سلب (ختم)ہو سکتا ہے''۔
(فتاوٰی رضویہ شریف ص۲۸۴ج۷رضا فاؤنڈیشن لاہور)
(11) جو شخص بھی لقمہ دے اس کو چاہیے کہ لقمہ دیتے وقت وہ قراء ت کی نیت نہ کرے بلکہ لقمہ دینے کی نیت سے وہ الفاظ کہے جیسا کہ فتاوٰی عالمگیری میں ہے
''الصحیح ان ینوی الفتح علی امامہ دون القراء ۃ(عالمگیری ج ۱ ص ۹۹ مکتبہ حقانیہ پشاور)
 ترجمہ: لقمہ دینے والا قراء ت کی نیت نہ کرے بلکہ لقمہ دینے کی نیت سے وہ الفاظ کہے۔فتاوٰی شامی میں ہے
لأن قراء ۃ المقتدی منھی عنھا و الفتح علی
Flag Counter