(7) امام تراویح میں اٹکے اور آگے نہ پڑھ پائے یا ایسا ہو کہ روانی میں پڑھتے ہوئے کوئی آیت یا آیت کا حصہ چھوڑ کربغیر رکے یا اٹکے آگے نکل جائے اور ناجائز مقدار تک خاموش رہنا بھی نہ پایا جائے ،نہ ہی معنی فاسد ہوتے ہوں تب بھی مقتدی کو بتانا چاہیے کیونکہ امام کے نہ ٹھہرنے یا فساد معنی نہ ہونے کے سبب اگرچہ نماز پر اثر نہیں پڑے گالیکن چونکہ تراویح میں پورے قران عظیم کا ختم کرنا مقصود ہوتا ہے اور کچھ حصہ رہ جانے سے یہ مقصود پورا نہیں ہو گا۔چنانچہ امامِ اہل سنت رضی اللہ عنہ فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں۔
تراویح میں ختمِ قرآن عظیم ہو تو مقتدی کو بتانا چاہے جبکہ امام سے نہ نکلے یا وہ آگے رواں ہو جائے اگرچہ اس غلطی سے نماز میں کچھ خرابی نہ ہو کہ مقصود ختمِ کتابِ عزیز ہے اور وہ کسی غلطی کے ساتھ پورا نہ ہو گا۔