کی پھردو قسمیں ہیں :(۱)کَمْ خبریہ (۲)کَمْ استفہامیہ ۔
ان میں سے کَمْ استفہامیہ تمییز کو نصب دیتاہے۔مثلاً:
اسی طرح کَذَا بھی تمییزکو نصب دیتاہے ۔جیسے:
عِنْدِیْ کَذَا دِرْھَماً۔
اورکَمْ خبریہ تمییز کو جر دیتاہے ۔جیسے:
کَمْ مَالٍ أَنْفَقْتُ، کَمْ دَارٍ بَنَیْتُ۔
اور بعض اوقات کَمْ خبریہ کی تمییزپر مِنْ جارہ بھی آتا ہے۔جیسے ارشاد رب العزت جل مجدہ ہے:
(کَمْ مِنْ مَّلَکٍ فِی السَّمٰوٰتِ).
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔اسمائے عاملہ کی گیارہویں قسم اسمائے کنایہ ہیں۔ اسم کنایہ:وہ اسم جس کی دلالت کسی معین چیز پر واضح نہ ہو۔ یہ دو لفظ ہیں:کَمْ اورکَذَا۔َکَمْ کی دو قسمیں ہیں: (۱) استفہامیہ۔یعنی وہ کَمْ جو مخاطب سے کسی عدد کے بارے میں پوچھنے کے لیے آتاہے اس کا معنی ہوگا ''کتنے''یا ''کتنی''وغیرہ۔یہ اپنی تمییز کو نصب دیتاہے۔ جیسے:کَمْ رَجُلاً عِنْدَکَ؟(تیرے پاس کتنے مرد ہیں ؟)اوراسی طرح کَذَا خبریہ بھی تمییزکو نصب دیتاہے۔ جیسے:عِنْدِیْ کَذَا دِرْھَماً (میرے پاس اتنے درہم ہیں)۔(۲)کَمْ خبریہ۔یعنی وہ کَمْ جس کے ذریعہ عدد مبہم کے بارے میں خبر دی جائے۔اس کا معنی ہوگا '' بہت''۔یہ اپنی تمییز کو جر دیتاہے۔ جیسے:کَمْ دَارٍ بَنَیْتْ(میں نے بہت مکان بنا ئے ہیں)اورکبھی اس کی تمییز پر مِن جارہ بھی آجاتاہے۔ جیسے اللہ تعالی کا فرمان ہے:(کَمْ مِّنْ مَّلَکٍ فِیْ السَّمٰوَاتِ) (آسمانوں میں بہت فرشتے ہیں۔) (ف)کَمْ استفہامیہ اس عددکے لیے آتاہے جو متکلم کے نزدیک مبہم (غیر واضح)ہواور اس کے خیال میں مخاطب کو معلوم ہو، اورکَمْ خبریہ اس عدد کے لیے آتاہے جو مخاطب کے نزدیک مبہم ہوتاہے اور متکلم کے نزدیک عموما ً معلوم ہوتاہے ۔(البشیر)