(ج)اس کے آخرمیں نون تثنیہ ہو۔جیسے:
عِنْدِیْ قَفِیْزَانِ بُرًّا۔
(د)اس کے آخرمیں نون جمع ہو۔ جیسے :
(ہَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیۡنَ اَعْمَالًا )
(ہ)اس کے آخر میں نون مشابہ بنون ِجمع ہو۔ مثلاً:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ہو سکے۔اسم کے تام ہونے کی چند صورتیں ہیں:(۱)تنوینِ ملفوظ کی وجہ سے تام ہو۔جیسے:عِنْدِیْ رِطْلٌ زَیْتاً۔(۲)تنوین مقدّر کی وجہ سے تام ہو۔جیسے:عِنْدِیْ اَحَدَ عَشَرَ کِتَاباً۔(اَحَدَ عَشَرَ کی تنوین مبنی ہونے کی وجہ سے حذف کردی گئی ہے۔)(۳)نون تثنیہ کی وجہ سے تام ہو۔جیسے:عِنْدِیْ قَفِیْزَانِ بُرًّا۔(۴)نون جمع کی وجہ سے تام ہو۔جیسے:(ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالاً) (۵)نون مشابہ بنونِ جمع کی وجہ سے تام ہو۔جیسے:عِنْدِیْ عِشْرُوْنَ قَلَماً۔(ف)عِشْرُوْنَ سے تِسْعُوْنَ تک تمام دہائیوں کا نون نون ِ جمع نہیں بلکہ نونِ جمع کے مشابہ ہے۔ (۶)اضافت کی وجہ سے تام ہو۔ جیسے:عِنْدِیْ مِلْؤُہ، عَسَلاً۔ ان تمام حالتوں میں چونکہ اسم اپنے مابعد کی طرف مضاف نہیں ہوسکتا اس لیے یہ تام ہے۔ اسمِ تام تمییز کو نصب دیتاہے ۔
1۔۔۔۔۔۔اسم تام سے مراد وہ اسم ہے جس کی اضافت نہیں ہوسکتی۔
2۔۔۔۔۔۔جیسے:عِنْدِیْ رِطْلٌ زَیْتاً(کہ رِطْلٌ کے آخرمیں تنوین ملفوظ موجود ہے۔)نحو ِمیرمیں اس کی مثال یہ ذکرکی گئی ہے:مَا فِیْ السَّمَاءِ قَدْرُ رَاحَۃٍ سَحَاباً۔
3۔۔۔۔۔۔جیسے:عِنْدِی أَحَدَ عَشَرَ رَجُلاً کہ یہ اصل میں أَحَدٌ وَعَشَرٌتھا؛ بوجہ بناء تنوین حذف کردی گئی نحوِمیرمیں اس کی دوسری مثال یہ ذکرکی گئی ہے:زَیْدٌ أَکْثَرُ مِنْکَ مَالاً۔