واضح رہے کہ یہاں در اصل لام جارّہ پوشیدہ ہے؛ کیونکہ اصل عبارت یوں ہے:
(۱۰)دسویں قسم (۵): اسم تامّ۔ یہ اپنی تمییز کو نصب دیتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* علیہ معلوم ہوتو اسے حذف کرناجائزہے ۔جیسے:اَللہُ أَکْبَرُ۔ کہ یہ اصل میں اَکْبَرُمِنْ کُلِّ شَیْئٍ۔ہے۔
1۔۔۔۔۔۔اسم تفضیل عموماً ضمیر میں عمل کرتاہے جواس میں مستتر اوراس کا فاعل ہوتی ہے۔
2۔۔۔۔۔۔اسمائے عاملہ کی آٹھویں قسم مصدر ہے۔یہ حدث کا وہ اسم ہے جو مفعول مطلق بھی بنتاہے ۔ (تنبیہ)مصدر جب مفعول مطلق واقع ہو تو عمل نہیں کریگا۔ مثلاً:ضَرَبْتُ ضَرْباً زَیْداً ۔ اس مثال میں زَیْداً کو نصب دینے والا مصدر نہیں بلکہ فعل ہے؛اس لیے کہ فعل مصدر سے قوی ہوتاہے اور قوی عامل کے ہوتے ہوئے ضعیف کو عمل نہیں دیا جائے گا۔ اور جب مصدر مفعول مطلق نہ ہوتو اپنے فعل والا عمل کریگا خواہ وہ فعل متعدی ہو یا لازم یعنی فعل لازم کا مصدر فاعل کو رفع دے گا اور متعدی کا مصدر مفعول بہ کو نصب بھی دے گا۔
3۔۔۔۔۔۔کیونکہ مفعول مطلق ہونے کی صورت میں عمل فعل کے لیے ہوگانہ کہ مصدرکے لیے کَمَا مَرَّ وَجْہُہ، ۔
4۔۔۔۔۔۔اسمائے عاملہ کی نویں قسم اسم مضاف ہے جو مضاف الیہ کو جر دیتاہے ۔جیسے: جَاءَ نِیْ غُلَامُ زَیْدٍ۔ اس میں زید کو غلام جر دے رہا ہے جو اس کی طرف مضاف ہے ۔
5۔۔۔۔۔۔اسمائے عاملہ کی دسویں قسم اسم تام ہے :یعنی وہ اسم جو اپنی موجودہ حالت میں مضاف نہ *