جَاءَ نِیْ زَیْدُنِ الْاَفْضَلُ(۳)
زَیْدٌ أَفْضَلُ الْقَوْمِ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ہو۔ جیسے:حَسَنٌ۔ اس کا صیغہ صرف فعل لازم سے مشتق ہوتاہے فعل متعدی سے نہیں ہوتا۔ اس کے عمل کے لیے صرف اعتماد شرط ہے۔ وہ اعتمادچھ میں سے موصول کے علاوہ باقی پانچ چیزوں پر ہوگا؛ کیونکہ اس پر آنے والا الف لام بمعنی اَلَّذِیْ نہیں ہوتا۔ (ف)اسے صفت مشبہ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ واحد تثنیہ ، جمع اور مذکر ومؤنث ہونے میں اسم فاعل کے مشابہ ہے۔
1۔۔۔۔۔۔یہ مبتدا پر اعتماد کی مثال ہے ۔موصوف پر اعتمادکی مثال یہ ہے:جَاءَ نِیْ رَجُلٌ اَحْمَرُوَجْہُہ،۔ ذوالحال پراعتمادکی مثال یہ ہے:جَاءَ نِیْ زَیْدٌ اَحْمَرَ وَجْہُہ،۔ ہمزہ استفہام پر اعتمادکی مثال یہ ہے:أَحَسَنٌ زَیْدٌ؟ حرف نفی پر اعتمادکی مثال یہ ہے: مَا حَسَنٌ زَیْدٌ۔
2۔۔۔۔۔۔اسمائے عاملہ کی ساتویں قسم اسم تفضیل ہے۔یہ وہ اسم مشتق ہے جو ایسی ذات پر دلالت کرے جسے کسی کے مقابلے میں معنئ مصدری کی زیادتی حاصل ہو۔جیسے:زَیْدٌ أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍواس میں أَفْضَلُ اسم تفضیل ہے اس کی دلالت ایسی ذات پر ہے جوعمروکے مقابلے میں معنئ مصدری کی زیادتی سے موصوف ہے یعنی زید کو عمرو سے زیادہ فضیلت حاصل ہے۔اس کا صیغہ مذکرکے لیے أَفْعَلُاور مؤنث کے لیے فُعْلٰی کے وزن پرآتاہے۔ اس صیغے کے شرائط اوراحکام ''نصاب الصرف''میں مذکور ہیں ۔(ف)مثال مذکور میں زَیْدٌ ''مُفَضَّلْ''ہے جسے فضیلت دی گئی ہے اورعَمْرٍو''مُفَضَّلْ عَلَیْہ'' ہے جس پر فضیلت دی گئی ۔(ف)اسم تفضیل وصف اور وزنِ فعل کی وجہ سے غیر منصرف ہوتاہے ۔
3۔۔۔۔۔۔اسم تفضیل کا استعمال تین طریقوں میں سے کسی ایک طریقے پر ہوناضروری ہے یعنی (الف لام کے ساتھ یامِنْ کے ساتھ یا اضافت کے ساتھ۔لہٰذا اس میں دو طریقوں کوجمع نہیں کرسکتے جیسے:زَیْدُنِ الْاَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍواور نہ یہ ہوسکتاہے کہ ان میں سے کوئی بھی موجود نہ ہوجیسے:زَیْدٌ اَفْضَلُ۔ البتہ مفضل *