Brailvi Books

نحو مِير
94 - 202
میں سے کسی ایک پرہو جن کا ذکر اسم فاعل کے بیان میں گذرا۔جیسے:
زَیْدٌ مَضْرُوْبٌ أَبُوْہ،، عَمْرٌو مُعْطًی غُلَامُہ، دِرْھَماً، بَکْرٌ مَعْلُوْمٌ اِبْنُہ، فَاضِلاً، خَالِدٌ مُخْبَرٌ اِبْنُہ، عَمْرواً فَاضِلاً(۱)۔
    ان مثالوں میں
مَضْرُوْبٌ، مُعْطًی، مَعْلُوْمٌ اورمُخْبَرٌ
کاوہی عمل ہے جوان کے افعال
ضُرِبَ، أُعْطِیَ، عُلِمَ
اور
أُخْبِرَ
کاہے(۲)۔

(۶)چھٹی قسم(۳): صفت مشبّہ۔ 

    اس کاعمل بھی اپنے فعل کی طرح ہے مگربشرطِ اعتمادِمذکور۔ مثلاً:
زَیْدٌ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فعل مضارع مجہول کے وزن پر ہوگا لیکن علامت مضارع کی جگہ میم مضموم لگادیاجائے گا۔جیسے:مَضْرُوْبٌ اورمُسْتَنْصَرٌ۔ خیال رہے کہ اسم مفعول صرف فعل متعدی سے بنتاہے لازم سے نہیں۔ اسم مفعول بھی ا ُن ہی دو شرطوں کے ساتھ فعل مجہول والا عمل کرتاہے جن کا ذکر ابھی فاعل کے بیان میں گذرا۔ 

1۔۔۔۔۔۔فعل متعدی یااس کے اسم مشتق کامفعول بہ اگرایک ہی ہوتو فعل کو مجہول بنانے کی صورت میں وہی نائب الفاعل بن جائے گا۔جیسے:زَیْدٌ مَضْرُوْبٌ أَبُوْہ،۔ (زید کا باپ ماراجاتاہے یا مارا جائے گا)اگر دوہوں توایک نائب الفاعل بن جائے گااور دوسرا مفعول بہ ہی رہے گا۔ جیسے:عَمْرٌو مُعْطًی غُلاَ مُہ، دِرْھَماً۔ (عمرو کے غلام کو ایک درہم دیا جاتاہے یا دیا جائے گا)اور اگر تین ہوں تو ایک نائب الفاعل بن جائے گااور باقی دو مفعول بہ ہی رہیں گے۔جیسے:خَالِدٌ مُخْبَرٌ اِبْنُہ، عَمْروًا فَاضِلاً۔(خالد کے بیٹے کو خبر دی جاتی ہے یا دی جائے گی کہ عمرو فاضل ہے ۔ ) (ف)اسم مفعول فعل مجہول کے حکم میں ہوتاہے ۔

2۔۔۔۔۔۔یعنی متعدی بیک مفعول ہونے کی صورت میں صرف نائب الفاعل کورفع دینا، متعدی بدومفعول ہونے کی صورت میں ایک مفعول کو نائب الفاعل ہونے کی وجہ سے رفع دینااور دوسرے مفعول کو بوجہ مفعولیت نصب دینااور متعدی بسہ مفعول ہونے کی صورت میں ایک مفعول کو نائب الفاعل ہونے کی بناء پررفع اور باقی دو مفعولوں کو بربنائے مفعولیت نصب دینا۔کَمَاہُوَظَاہِرٌعِنْدَ مَاہِرٍ۔

3۔۔۔۔۔۔اسمائے عاملہ کی چھٹی قسم صفت مشبہ ہے۔صفت مشبہ وہ اسم جو اس ذات پردلالت کرے جس کے ساتھ معنئ مصدری بطور ثبوت قائم ہویعنی اس میں کسی زمانہ ماضی، حال یااستقبال کا کوئی اعتبارنہ  *
Flag Counter