جَاءَ نِی الْقَائِمُ أَبُوْہ،، جَاءَ نِی الضَارِبُ أَبُوْہ، بَکْراً(۴)۔
جَاءَ نِیْ زَیْدٌ رَاکِباً غُلَامُہ، فَرَساً(۵)
۔ یا'' ہمزہ استفہام''ہو۔ مثلاً:
أَضَارِبٌ زَیْدٌ عَمْرواً(۶)؟
کاوہی عمل ہے جو ان کے فعل
ضَرَبَاورقَامَ کاہے (۷)۔
(۵)پانچویں قسم (۸):اسم مفعول بمعنی حال و استقبال ۔
یہ فعل مجہول کی طرح عمل کرتاہے بشرطیکہ اس کا اعتماد انہی اشیاء ستہّ
* عمل کے لیے زمانہ حال یا استقبال میں ہوناشرط نہیں بمعنی ماضی ہوتوبھی عمل کریگا۔ جیسے:اَلضَّارِبُ أَبُوْہُ بَکْراً أَمْسِ بَغْدَادِیٌّ۔(جس کے باپ نے کل بکر کو ماراوہ بغداد کا رہنے والاہے۔)
1۔۔۔۔۔۔یعنی اس لفظ کے بعدواقع ہو۔
2۔۔۔۔۔۔ان مثالوں میں زَیْدٌ مبتدا ہے جس پرقَائِمٌ اور ضَارِبٌ کااعتمادہے۔
3۔۔۔۔۔۔اس مثال میں رَجُل ٍموصوف ہے جس پرضَارِبٍ کا اعتمادہے۔
4۔۔۔۔۔۔ان مثالوں میں اَلْقَائِمُ اور اَلضَّارِبُ کااعتماد الف لام پرہے جوبمعنی اَلَّذِیْ ہے۔
5۔۔۔۔۔۔اس مثال میں زَیْدٌ ذوالحال ہے جس پررَاکِباً کااعتمادہے۔
6۔۔۔۔۔۔اس مثال میں ضَارِبٌ کا اعتماد ہمزہ استفہام پر ہے کہ یہ اس کے بعد واقع ہے۔
7۔۔۔۔۔۔یعنی فعل لازم ہونے کی صورت میں صرف فاعل کورفع دینااورمتعدی ہونے کی صورت میں فاعل کو رفع دینے کے ساتھ ساتھ مفعول بہ کونصب بھی دینا۔کَمَا لاَ یَخْفٰی۔
8۔۔۔۔۔۔اسمائے عاملہ کی پانچویں قسم اسم مفعول ہے یعنی وہ اسم مشتق جواس ذات پر دلالت کرے جس پر فاعل کا فعل واقع ہو۔ یہ ثلاثی مجرد سےمَفْعُوْلٌ کے وزن پر آتاہے اور ثلاثی مجرد کے علاوہ سے