Brailvi Books

نحو مِير
92 - 202
سَرْعَانَ۔
    یہ اپنے اسم کو فاعل ہونے کی وجہ سے رفع دیتے ہیں۔ مثلا:
ھَیْھَاتَ یَوْمُ الْعِیْدِ۔
یعنی
بَعُدَ یَوْمُ الْعِیْدِ۔
 (۳)تیسری قسم(۱):اسمائے افعال بمعنی امر حاضر ۔جیسے:
رُوَیْدَ، بَلْہَ، حَیَّھَلَ، عَلَیْکَ، دُوْنَکَ، ھَا۔
    یہ اپنے اسم کو مفعول ہونے کی وجہ سے نصب دیتے ہیں۔ مثلاً:
رُوَیْدَ زَیْداً۔یعنی أَمْھِلْہ،۔
 (۴)چوتھی قسم(۲): اسم فاعل بمعنی حال یااستقبال۔

     یہ فعل معروف کی طرح عمل کرتاہے بشرطیکہ اپنے سے پہلے والے لفظ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* کو فاعل ہونے کی بنا پر رفع دیتے ہیں جیسے:(۱)ھَیْھَاتَ زَیْدٌ(زید کتنا دور ہوا) (۲)شَتَّانَ زَیْدٌ وَعَمْرٌو(زید اور عمرو کس قدر جدا ہوگئے) (۳)سَرْعَانَ زَیْدٌ(زید کتنا تیز چلا۔) 

1۔۔۔۔۔۔اسمائے عاملہ کی تیسری قسم وہ اسمائے افعال ہیں جو فعل امرکے معنی پردلالت کرتے ہیں۔ وہ یہ ہیں:(۱)رُوَیْدَ(تو چھوڑ) (۲)حَیَّھَلَ(تو آ)(۳)عَلَیْکَ(لازم پکڑ) (۴)دُوْنَکَ(پکڑ) (۵)ھَا(پکڑ )یہ افعال اسم ظاہرکو مفعول بہ ہونے کی وجہ سے نصب دیتے ہیں۔جیسے:رُوَیْدَ زَیْداً (تو زید کو چھوڑ )

2۔۔۔۔۔۔اسمائے عاملہ کی چو تھی قسم اسم فاعل ہے۔ یعنی وہ اسم مشتق جو اس ذات پر دلالت کرے جس کے ساتھ معنی مصدری قائم ہو۔یہ ثلاثی مجرد سے فَاعِلٌکے وزن پرآتاہے اور اس کے علاوہ دیگر ابواب سے مضارع معروف کے وزن پربنتاہے مگر علامت مضارع کی جگہ میم مضموم اور ماقبل آخر مکسور ہوتاہے۔ جیسے:ضَارِبٌ، مُکْرِمٌ۔ یہ اپنے فعل معروف کا ساعمل کرتاہے مگر اس کے عامل ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں:(۱) زمانہ حال یااستقبال کے معنی میں ہو۔لہٰذا اگر زمانہ ماضی یا دوام واستمرار پر دلالت کرے تو عمل نہیں کریگا ۔(۲)چھ چیزوں:(مبتدا، موصوف، موصول، ذوالحال، ہمزہ استفہام اور حرف نفی)میں سے کسی ایک پر اعتماد ہو ۔ (ف)اسم فاعل پراگر الف لام داخل ہو تو اس کے  *
Flag Counter