Brailvi Books

نحو مِير
89 - 202
سبق نمبر: 17

(۔۔۔۔۔۔افعال تعجب کا بیان(۱)۔۔۔۔۔۔)
    ثلاثی مجر د کے ہر مصدر سے فعل تعجب کے دو صیغے ہوتے ہیں(۲) :
(۱)مَا أَفْعَلَہ۔
جیسے :
مَا أَحْسَنَ زَیْداً
 (زیدکتناحسین ہے !)یہ اصل میں یوں ہے :
أَیُّ شَیْءٍ أَحْسَنَ زَیْداً
لہذااس میں مَا بمعنی أَیُّ شَیْءٍ ہے اور مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے۔اور أَحْسَنَ مبتداکی خبر ہونے کی بناء پر محل رفع میں ہے ۔اور اس کا فاعل ھُوَ ضمیر ہے جو اس میں پوشیدہ ہے۔ اورزَیْداً مفعول بہ ہے۔
(۲)أَفْعِلْ بِہٖ۔
جیسے:
أَحْسِنْ بِزَیْدٍ۔
اس میں أَحْسِنْ صیغہ امر ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔افعال عاملہ میں سے افعال تعجب بھی ہیں۔ جس چیز کا سبب مخفی ہواس کے جاننے سے نفس میں جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اسے''تعجب ''کہتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ جب سبب ظاہر ہوجاتاہے تو تعجب زائل ہو جاتاہے۔فعل تعجب :وہ فعل جو انشائے تعجب کے لیے وضع کیا گیا ہو۔ اس کے دو صیغے ہیں :(۱)مَا أَحْسَنَہ، ،ضمیر کی جگہ اسم ظاہر رکھ کر مَا أَحْسَنَ زَیْداً بھی کہہ سکتے ہیں (زید کتنا حسین ہے) (۲)أَحْسِنْ بِہٖ یا أَحْسِنْ بِزَیْدٍ۔ان اوزان پر فعل تعجب بنانے کی شرطیں ہم نے "صرف بہائی"کے حاشیہ "صرف بنائی "میں ذکر کردی ہیں۔ 

2۔۔۔۔۔۔فعل تعجب کے صیغے جب اظہار تعجب کے لیے استعمال ہوں اس وقت تو انشائے تعجب ہی کے لیے ہوتے ہیں مگر اصل کے اعتبار سے مَاأَحْسَنَ زَیْداً میں مَا استفہامیہ بمعنی أیُّ شْیْئٍمبتدا، اورما بعد خبر ہے ۔ترجمہ یہ ہے:کس چیز نے زید کو حسین بنادیا؟ اور أَحْسِنْ بِزَیْدٍ میں أَحْسِنْ فعل امر بمعنی ماضی ہے اور اس کا ہمزہ صیرورت کے لیے ہے ۔بِزَیْدٍمیں باء زائدہ ہے اورزَیْدٍ فاعل ہے۔ ترجمہ یہ ہے :زید کیساحسن والا ہوا ۔
Flag Counter