عَسَی زَیْدٌ أَنْ یَخْرُجَ،
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فعل مضارع لفظ اَنْ کے ساتھ مل کر عَسَی کا فاعل بنے اورخبر کی حاجت نہ رہے۔ جیسے:
عَسَی أَنْ یَخْرُجَ زَیْدٌ۔
اس صورت میں اَنْ اورفعل مضارع بمعنی مصدر ہوکر محل رفع میں ہوگا(۳)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔افعال عاملہ میں سے افعال مقاربہ بھی ہیں ۔یہ سات افعال ہیں جن میں سے چار کتاب میں مذکورہیں:کَادَ،کَرَبَ، أَوْشَکَ اورعَسَی۔ ان کے علاوہ تین یہ ہیں:اَخَذَ، طَفِقَاورجَعَلَ یہ تینوں اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کے اسم نے خبر کو شروع کردیاہے۔ان کو افعال مقاربہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ اس بات پردلالت کرتے ہیں کہ ان کی خبر کا حصول ان کے اسم کے لیے قریب ہے۔
2۔۔۔۔۔۔جمہور کا مذہب یہ ہے کہ افعال مقاربہ کا عمل افعال ناقصہ کی طرح ہے لیکن ان کی خبر فعل مضارع اَنْ ناصبہ کے ساتھ یا اس کے بغیر ہوتی ہے ۔افعال ناقصہ میں یہ ضروری نہیں ہے۔
3۔۔۔۔۔۔معنی :عَسَی خُرُوْجُ زَیْدٍ۔