| نحو مِير |
یہ افعال تنہا فاعل کے ساتھ مل کر مکمل جملہ نہیں بنتے بلکہ خبر کے محتاج ہوتے ہیں، اسی لیے ان کو''افعا ل ناقصہ''کہتے ہیں۔ یہ افعال جملہ اسمیہ پر داخل ہوتے ہیں، اسم کو رفع اور خبر کو نصب دیتے ہیں۔جیسے:
کَانَ زَیْدٌ قَائِماً۔
مرفوع کو کَانَ کا اسم اور منصوب کوکَانَکی خبر کہتے ہیں ۔باقی افعال کو بھی اسی پر قیاس کیجئے ۔
تنبیہ: ان میں سے بعض افعال بعض اوقات تنہا فاعل سے ملکرمکمل جملہ بن جاتے ہیں ۔ جیسے: کَانَ مَطَرٌ۔ اس میں کَانَ بمعنی حَصَل َہے یعنی بار ش ہوئی۔ اسے ''کان تامّہ'' کہتے ہیں۔نیزکَانَ کبھی زائد ہ بھی ہوتا ہے(۱)۔
سوالات
سوال۱: افعال ناقصہ کتنے اور کون کون سے ہیں؟
سوال۲: افعال ناقصہ کا عمل کیا ہے؟
سوال۳: کان کی کتنی قسمیں ہیں؟ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ * ہوتاہے کہ معاذ اﷲرسولان گرامی پہلے کافروں کے مذہب پر تھے اسی لیے وہ ان کے دین میں ''پھرآنے''اور''لوٹ آنے'' کا کہہ رہے ہیں۔مگر امام اہل سنت عاشق ماہ رسالت اعلی حضرت مولانا احمدرضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے انتہائی محتاط اور صحیح ترجمہ فرمایاکہ:''یاتم ہمارے دین پر ہو جاؤ''یعنی رسولان عظام سے کافروں کا مطالبہ یہ ہے کہ تم ہمارے دین پر ہو جاؤ تو ہم تمہیں اپنے گاؤں سے نہیں نکالیں گے ۔اس کامفہوم یہ ہے کہ رسولان عظام نہ اس وقت ان کے دین پر ہیں اور نہ پہلے کبھی ان کے دین پر تھے اور یہی حق ہے۔ 1۔۔۔۔۔۔جیسے :مَاکَانَ أَحْسَنَ زَیْداً(زید کتنا حسین ہے)