ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔افعال عاملہ میں سے افعال ناقصہ بھی ہیں ۔کَانَ زَیْدٌ قَاءِماً میں کَانَ فعل ناقص ہے ؛ کیونکہ اس کے بعد اسم مرفوع زَیْد ٌکو ذکر کرنے سے بات مکمل نہیں ہوتی جب تک اس کے ساتھ منصوب کا ذکر نہ کیا جائے۔
2۔۔۔۔۔۔کَانَ کا استعمال تین طرح ہے:(۱)کَانَناقصہ۔وہ کَانَ جو اپنے اسم سے مل کر مکمل جملہ نہ بنے بلکہ اسے خبر کی بھی ضرورت ہو۔جیسے:کَانَ زَیْدٌ شَاعِراً(زید شاعر ہے)باقی افعال ناقصہ کی بھی یہی کیفیت ہے۔ (۲)کَان َتامہ۔وہ جو اپنے مابعد اسم سے مل کر مکمل جملہ بن جاتا ہے اور اسے خبر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جیسے :کَانَ مَطَرٌ (بارش ہوئی)یہ کَانَ بمعنی حَصَلَ اور وُجِدَ ہوتاہے۔ (۳)کَانَزائدہ۔ وہ کَانَ جس کے حذف کردینے سے اصل معنی میں خلل پیدا نہ ہو۔ یہ کَانَ درمیان کلام میں آتاہے ابتداء میں نہیں آتا۔ جیسے قرآن پاک میں ہے:(کَیْفَ نُکَلِّمُ مَنْ کَانَ فِیْ الْمَھْدِ صَبِیًّا)(ہم اس سے بات کیسے کریں جو گہوار ے میں بچہ ہے۔)
3۔۔۔۔۔۔ عَادَ دو طرح استعمال ہوتاہے:(۱)عَادَناقصہ۔ وہ جو صَارَ کے معنی میں ہو۔ جیسے:عَادَ زَیْدٌ غَنِیًّا(زید مالدار ہوگیا) (۲)عَادَ تامہ۔ وہ جو رَجَعَ کے معنی میں ہو۔جیسے:عَادَ زَیْدٌ (زید لوٹ گیا۔)
تنبیہ:اللہ تعالی کے فرمان:(وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِرُسُلِھِمْ لَنُخْرِجَنَّکُمْ مِّنْ قَرْیَتِنَا اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا)میں''لَتَعُوْدُنَّ''فعل ناقص ہے ۔بعض مترجمین نے اسے فعل تام سمجھ کر ترجمہ کیا اور بہت بڑی خطا کے مرتکب ہوئے چنانچہ ان میں سے کسی نے اس کا ترجمہ کیا:''یا یہ ہوکہ تم ہمارے مذہب میں پھر آجاؤ''اور کسی نے ترجمہ کیا:''یا لوٹ آؤ ہمارے دین میں''۔ ان ترجموں سے یہ مفہوم *