پڑھنا بھی درست ہے(۲)۔
(۳)۔۔۔۔۔۔وہ فعل متعدی جودو مفعولوں کوچاہتاہے اوران میں سے کسی مفعول کا حذف کرنا جائز نہیں ہوتا۔اوریہ افعال قلوب میں ہوتاہے۔
جیسے:
عَلِمْتُ زَیْداً فَاضِلاً، ظَنَنْتُ زَیْداً عَالِماً۔
عَلِمْتُ، حَسِبْتُ، خِلْتُ، زَعَمْتُ،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*دو مفعولوں کو چاہتا ہوجن میں سے کسی ایک کو حذف کردینا بھی جائز ہو۔ جیسے:أَعْطَیْتُ زَیْدًا دِرْھَماً(میں نے زید کو ایک درہم دیا )اس کے دو مفعولوں میں سے پہلے یا دوسرے مفعول کو حذف کردیا جائے تو کوئی حرج نہیں جیسے:اَعْطَیْتُ زَیْداًیااَعْطَیْتُ دِرْھَماً۔ اسی طرح کَسَوْتُ(میں نے پہنایا)سَلَبْتُ(میں نے چھینا)وغیرہ ۔ایسے افعال کو''باب أَعْطَیْتُ ''سے بھی تعبیر کرتے ہیں ۔ (۳)وہ فعل متعدی جو ایسے دو مفعولوں کو چاہتا ہوجن میں سے کسی ایک کو حذف کردینا جائز نہ ہو۔ جیسے:عَلِمْتُ زَیْداً فَاضِلاً(میں نے زید کو فاضل جانا)اس مثال میں زَیْداًاور فَاضِلاً دونوں ایک ہیں اس لیے ان میں سے ایک کو حذف کرنا جائز نہیں ۔ایسے ا فعال کو ''افعال قلوب ''کہتے ہیں افعال قلوب یہ ہیں:خِلْتُ، عَلِمْتُ، حَسِبْتُ، ظَنَنْتُ، زَعَمْتُ، رَأَیْتُ، وَجَدْتُ۔ان افعال کو ''باب عَلِمْتُ''سے بھی تعبیر کرتے ہیں ۔(۴)وہ فعل جو تین مفعولوں کو چاہتاہو۔ جیسے:أَعْلَمَ اللہُ زَیْداً عَمْرًوا فَاضِلاً(اللہ تعالی نے زید کو علم دیا کہ عمرو فاضل ہے)ایسے افعال کو ''باب أَعْلَمْتُ''سے بھی تعبیر کرتے ہیں ۔
1۔۔۔۔۔۔اس مثال میں زَیْدا ً اوردِرْھَماً دونوں مفعول ہیں ۔
2۔۔۔۔۔۔اوراَعْطَیْتُ دِرْھَماً۔پڑھنا بھی درست ہے۔