Brailvi Books

نحو مِير
81 - 202
    (۱)۔۔۔۔۔۔ وہ فعل ِمتعدی جو ایک مفعول کو چاہتا ہے ۔جیسے:
ضَرَبَ زَیْدٌ عَمْرواً۔
    (۲) ۔۔۔۔۔۔وہ فعل متعدی جو دو مفعولوں کو چاہتا ہے اوران میں سے ایک مفعول کا حذف کرنا بھی درست ہوتاہے ۔ جیسے:
اَعْطَیْتُ زَیْداً دِرْھَماً(۱)
اس کو
اَعْطَیْتُ زَیْداً
پڑھنا بھی درست ہے(۲)۔

    (۳)۔۔۔۔۔۔وہ فعل متعدی جودو مفعولوں کوچاہتاہے اوران میں سے کسی مفعول کا حذف کرنا جائز نہیں ہوتا۔اوریہ افعال قلوب میں ہوتاہے۔

جیسے:
عَلِمْتُ زَیْداً فَاضِلاً، ظَنَنْتُ زَیْداً عَالِماً۔
    افعال قلوب یہ ہیں:
عَلِمْتُ، حَسِبْتُ، خِلْتُ، زَعَمْتُ،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*دو مفعولوں کو چاہتا ہوجن میں سے کسی ایک کو حذف کردینا بھی جائز ہو۔ جیسے:أَعْطَیْتُ زَیْدًا دِرْھَماً(میں نے زید کو ایک درہم دیا )اس کے دو مفعولوں میں سے پہلے یا دوسرے مفعول کو حذف کردیا جائے تو کوئی حرج نہیں جیسے:اَعْطَیْتُ زَیْداًیااَعْطَیْتُ دِرْھَماً۔ اسی طرح کَسَوْتُ(میں نے پہنایا)سَلَبْتُ(میں نے چھینا)وغیرہ ۔ایسے افعال کو''باب أَعْطَیْتُ ''سے بھی تعبیر کرتے ہیں ۔ (۳)وہ فعل متعدی جو ایسے دو مفعولوں کو چاہتا ہوجن میں سے کسی ایک کو حذف کردینا جائز نہ ہو۔ جیسے:عَلِمْتُ زَیْداً فَاضِلاً(میں نے زید کو فاضل جانا)اس مثال میں زَیْداًاور فَاضِلاً دونوں ایک ہیں اس لیے ان میں سے ایک کو حذف کرنا جائز نہیں ۔ایسے ا فعال کو ''افعال قلوب ''کہتے ہیں افعال قلوب یہ ہیں:خِلْتُ، عَلِمْتُ، حَسِبْتُ، ظَنَنْتُ، زَعَمْتُ، رَأَیْتُ، وَجَدْتُ۔ان افعال کو ''باب عَلِمْتُ''سے بھی تعبیر کرتے ہیں ۔(۴)وہ فعل جو تین مفعولوں کو چاہتاہو۔ جیسے:أَعْلَمَ اللہُ زَیْداً عَمْرًوا فَاضِلاً(اللہ تعالی نے زید کو علم دیا کہ عمرو فاضل ہے)ایسے افعال کو ''باب أَعْلَمْتُ''سے بھی تعبیر کرتے ہیں ۔ 

1۔۔۔۔۔۔اس مثال میں زَیْدا ً اوردِرْھَماً دونوں مفعول ہیں ۔

2۔۔۔۔۔۔اوراَعْطَیْتُ دِرْھَماً۔پڑھنا بھی درست ہے۔
Flag Counter