Brailvi Books

نحو مِير
80 - 202
مؤنث دونوں طرح لاناجائزہے۔جیسے:
طَلَعَ الشَمْسُ(۱)
اور
طَلَعَتِ الشَمْسُ، قَالَ الرِّجَالُ(۲)اور قَالَتِ الرِّجَالُ۔
فعل مجہول(۳) کاعمل:

    یہ فعل فاعل کی بجائے مفعول بہ کو رفع دیتا ہے۔ باقی مفعولات کو نصب دیتاہے۔ جیسے:
ضُرِبَ زَیْدٌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ أمَامَ الْاَمِیْرِضَرْباً شَدِیْداً فِیْ دَارِہٖ تَأدِیْباً وَالْخَشْبَۃَ۔
    یاد رہے کہ فعل مجہول کو
''فِعْلٌ مَا لَمْ یُسَمَّ فَاعِلُہٗ ''
بھی کہتے ہیں۔ اور اس کے نائب الفاعل کو
''مَفْعُوْلُ مَا لَمْ یُسَمَّ فَاعِلُہٗ''
بھی کہتے ہیں۔

فعل متعدی کی اقسام کابیان(۴)

    فعل متعدی کی چار اقسام ہیں:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*میں واحد کی بناء سالم نہ رہے۔

1۔۔۔۔۔۔ طَلَعَ الشَّمْسُ، طَلَعتِ الشَّمْسُ ان میں فاعل اسم ظاہر مؤنث غیر حقیقی ہے،اس صورت میں فعل کے ساتھ علامت تانیث کا لانا یا نہ لانا دونوں جائز ہیں جیساکہ مثالوں سے ظاہرہے۔

2۔۔۔۔۔۔ قَالَ الرِّجَالُ، قَالَتِ الرِّجَالُ اس میں فاعل اسم ظاہر جمع مذکر مکسر ہے۔ اس میں بھی دونوں صورتیں جائز ہیں۔ اسی طرح اگرفاعل اسم ظاہر جمع مؤنث مکسرہوتوبھی دونوں صورتیں جائزہوتی ہیں۔ جیسے :قالَ نِسْوَۃٌ، قَالَتْ نِسْوَۃٌ۔ 

3۔۔۔۔۔۔فعل مجہول وہ فعل ہے جس کا فاعل مذکور نہ ہواورجس کی نسبت فاعل کی طرف نہ کی گئی ہو۔ چونکہ اس کا فاعل معلوم نہیں ہوتااس لیے اسے ''مجہول''کہتے ہیں۔ 

4۔۔۔۔۔۔مفعول بہ کے لحاظ سے فعل متعدی کی چار قسمیں ہیں :(۱)وہ فعل متعدی جو صرف ایک مفعول کو چاہتا ہو۔جیسے :ضَرَبَ زَیْدٌ عَمْروًا(زید نے عمرو کو مارا)(۲)وہ فعل متعدی جو ایسے
Flag Counter