Brailvi Books

نحو مِير
79 - 202
سبق نمبر: 13

(۔۔۔۔۔۔فاعل کی اقسام اور فعل کے بعض احکام۔۔۔۔۔۔)
    فاعل کی دو قسمیں ہیں:(۱)مظہر(۱)۔جیسے:
ضَرَبَ زَیْدٌ(۲)
 (۲)مضمر(۳)۔

پھر فاعل مضمر کی دو قسمیں ہیں:(۱)بارز ۔جیسے:ضَرَبْتُ(۴) (۲)مستتر (پوشیدہ)۔ جیسے:
زَیْدٌ ضَرَبَ۔ضَرَبَ
کا فاعل ھُوَ ضمیرہے جو اس میں مستتر ہے۔

فعل کے بعض احکام:

     اگر فاعل مؤنث حقیقی(۵)ہویا مؤنث کی ضمیر ہوتوان دونوں صورتوں میں فعل کو مؤنث لانا ضروری ہے۔ جیسے:
قَامَتْ ھِنْدٌ(۶)اورھِنْدٌ قَامَتْ(۷)۔
    اگر فاعل اسم ظاہر مؤنث غیر حقیقی یا جمع مکسر(۸)ہو تو فعل کو مذکر اور
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔یعنی وہ اسم جوصراحۃکسی ذات پر دلالت کرے۔

2۔۔۔۔۔۔ اس میں زَیْدٌ فاعل مظہر ہے۔

3۔۔۔۔۔۔یعنی وہ اسم جو کنایۃ(اشارۃ)غائب حاضر یا متکلم پر دلالت کرے۔

4۔۔۔۔۔۔اس میں تُ ضمیربارز فاعل ہے۔

5۔۔۔۔۔۔ مؤنث حقیقی وہ مؤنث ہے جس کے مقابل نرجاندار ہو۔

6۔۔۔۔۔۔ قَامَتْ ھِنْدٌ اس میں فاعل اسم ظاہر مؤنث حقیقی ہے۔اس صورت میں فعل کا مؤنث لانا واجب ہے جبکہ فعل اور فاعل کے درمیان فاصلہ نہ ہو اور اگر ان کے درمیان فاصلہ آجائے توفعل کومذکرکالانابھی جائز ہے ۔جیسے:قَامَ الْیَوْمَ ھِنْدٌ۔

7۔۔۔۔۔۔ھِنْدٌ قَامَتْ اس میں فاعل مؤنث حقیقی کی طرف راجع ضمیر ہے۔اسی طرح اَلشَّمْسُ طَلَعَتْ اس میں فاعل مؤنث غیر حقیقی کی طرف راجع ضمیرہے۔ ان دونوں صورتوں میں فعل کا علامت تانیث کے ساتھ لانا واجب ہے ۔

8۔۔۔۔۔۔ مؤنث غیر حقیقی وہ مؤنث ہے جس کے مقابل نر جاندار نہ ہو۔ اور جمع تکسیر وہ جمع ہے جس  *
Flag Counter