تمییزکی تعریف(۳):
وہ اسم جو عدد یا وزن یا پیمائش یا ناپ سے ابہام(۴) کو دور کرتاہے ۔ جیسے:
عِنْدِیْ اَحَدَ عَشَرَ رَجُلاً، عِنْدِیْ رِطْلٌ(۵)زَیْتاً، مَا فِی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
میں راکبین فاعل اور مفعول دونوں کی حالت بیان کررہاہے کہ جب وہ دونوں ملے توسوارتھے۔
1۔۔۔۔۔۔حال ہمیشہ نکرہ اور ذوالحال اکثر معرفہ ہوتاہے ۔ اگرکبھی ذوالحال نکرہ محضہ ہوتوحال کو اس پر مقدم کرنا واجب ہے۔ جیسے:ضَرَبتُ مَشدُوْداً رَجُلاً۔
2۔۔۔۔۔۔ بعض اوقات جملہ خبریہ بھی حال واقع ہوتاہے ؛ کیونکہ جملہ بھی نکرہ کے حکم میں ہوتاہے ۔ جیسے:رَأَیتُ الأمیرَ وَھُوَ رَاکبٌ(میں نے امیر کو اس حال میں دیکھا کہ وہ سوار تھا ) ۔
3۔۔۔۔۔۔تمییزیعنی وہ اسم نکرہ جوممیزسے ابہام اور پوشیدگی کود ور کرتاہے۔ جیسے: طَابَ زَیْدٌ نَفْساً(زید طبیعت کا اچھا ہے)، طَابَ زَیْدٌ(زید اچھاہے)میں ابہام تھاکہ وہ کس لحاظ سے اچھا ہے نَفْساً کہنے سے وضاحت ہوگئی کہ وہ ذات اور طبیعت کے لحاظ سے اچھا ہے ۔ اسی طرح اَعْطَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ دِرْھَماً۔ اس جگہ اَحَدَ عَشَرَ جو اسم عددہے اس کے معدود میں ابہام تھا کہ وہ کونسی چیز ہے؛ کیونکہ ''گیارہ''کوئی بھی چیزہوسکتی ہے مثلاًکتابیں،قلم ،اوراق وغیرہ۔َ دِرْھَماًنے اس ابہام کو دور کر دیالہٰذا اَحَدَ عَشَرَ ممیز اور دِرْھَماً اس کی تمییز کہلائے گا۔ (درہم عرب میں چاندی کا ایک سکہ رائج تھا۔)
4۔۔۔۔۔۔پوشیدگی۔
5۔۔۔۔۔۔قَولُہ:رِطْلٌ یہ ایک وزن ہے ۔اس جگہ اس کے موزون میں ابہام تھاکہ ایک رطل کیاچیز ہے؛کیونکہ رِطْلٌ کوئی بھی چیزہوسکتی ہے مثلاًگھی ، تیل وغیرہ۔زَیْتاًنے اس ابہام کودورکردیا لہٰذا رِطْلٌ ممیز اور زَیْتاً اس کی تمییز ہے۔