Brailvi Books

نحو مِير
77 - 202
السَمَاءِ قَدْرُ رَاحَۃٍ سَحَاباً(۱)، عِنْدِیْ قَفِیْزَانِ(۲)بُرًّا۔
مفعول بہ کی تعریف:

     وہ اسم جس پر فاعل کا فعل واقع ہو۔ جیسے:
ضَرَبَ زَیْدٌ عَمْرواً(۳)۔
تنبیہ: خیال رہے کہ جملہ محض فعل اور فاعل سے ملکر مکمل ہو جاتاہے۔ اسی لیے کہاجاتا ہے:
اَلْمَنْصُوْبَاتُ فَضْلَۃٌ(۴)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ قَدْر رَاحَۃٍ میں رَاحَۃٌ کا معنی ہے ہتھیلی اورقَدْرُ کامطلب ہے مقدار ۔یہاں ممسوح (جس کی پیمائش کی جائے)میں ابہام تھاکہ کونسی چیزآسمان میں ہتھیلی کی مقدارمیں نہیں؟ سحاباًنے اسے دورکردیاکہ آسمان میں بادل ہتھیلی کی مقداربھی نہیں ۔خیال رہے کہ تمییز کی دو قسمیں ہیں:(۱)وہ تمییز جو کسی اسم مفرد سے ابہام کو دور کرے پھروہ مفرد یاتوعدد ہوگایاوزن یاکیل یامساحت ۔جیسے مذکورہ چاروں مثالوں سے واضح ہے۔ (۲)وہ تمییز جو کسی نسبت سے ابہام کو دور کرے ۔جیسے:طَابَ زَیْدٌ عِلْماً(زیدعلم کے اعتبارسے اچھا ہے)اس مثال میںَ زَیْدٌکی طرف جو طَابَکی نسبت ہے اس میں ابہام تھا کہ زَیْدٌ کس لحاظ سے اچھا ہے ؟عِلْماًنے اس ابہام کو دورکردیاکہ وہ علم کے اعتبار سے اچھاہے۔ (ف)عدد سے مراد معدود ہے؛ کیونکہ أَحَدَ عَشَرَ کا معنی گیارہ ہے اس میں کوئی ابہام نہیں ہے ابہام تو اس کے معدود میں ہے کہ وہ کس جنس سے تعلق رکھتاہے۔ اسی طرح وزن سے موزون ، کیل سے مکیل اور مساحت سے ممسوح مراد ہے۔(ف) تمییزجس اسم کے ابہام کو دور کرتی ہے اسے''ممیز ''کہتے ہیں ۔

2۔۔۔۔۔۔قولہ:قَفِیْزَان یہ قَفِیْزکا تثنیہ ہے اور قَفِیْز ایک کیل (پیمانہ )ہے ۔اس جگہ مکیل(وہ چیز جسے پیمانے سے ماپا جاتاہے)میں ابہام تھاکہ دوقفیز کونسی چیزہے جو، چاول ،گندم وغیرہ۔بُرًّانے اس ابہام کو دور کر دیا کہ وہ گندم ہے۔

3۔۔۔۔۔۔میں عَمْرواً مفعول بہ ہے۔

4۔۔۔۔۔۔یعنی منصوبات زوائد ہوتے ہیں ۔
Flag Counter