Brailvi Books

نحو مِير
75 - 202
    (ب)ظرف مکان۔ جیسے:
جَلَسْتُ عِنْدَکَ
میں لفظ عِنْدَکَ۔

مفعول معہ کی تعریف(۱):وہ اسم جو واو بمعنی ''مع'' کے بعد واقع ہو۔ جیسے:
جَاءَ الْبَرْدُ وَالْجُبَّاتِ
میں
اَلْجُبَّاتِ(۲)۔
مفعول لہ کی تعریف :وہ اسم جواس چیزپر دلالت کرے جو فعل مذکور کا سبب ہو۔ جیسے:
قُمْتُ اِکرْاَماً لِزَیْدٍ میں اِکْرَاماً(۳)۔
حال کی تعریف:

    وہ اسم نکرہ جو فاعل یا مفعول یا دونوں کی حالت بیان کرے۔ جیسے:
جَاءَ زَیْدٌ رَاکِباً(۴)، ضَرَبْتُ زَیْداً مَشْدُوْداً، لَقِیْتُ زَیْداً رَاکِبَیْنِ۔
فائدہ: فاعل اورمفعول کو ''ذو الحال''کہتے ہیں۔اورذوالحال اکثر معرفہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔مفعول معہ یعنی وہ اسم جو واو بمعنی مع کے بعد واقع ہوتاکہ معلوم ہو کہ اس اسم کو فعل کے معمول کے ساتھ معیت حاصل ہے ۔جیسے:جَاء البَردُ والجُبّاتِ(سردی جبوں کے ساتھ آئی۔)اس میں واو بمعنی مع ہے۔ 

2۔۔۔۔۔۔ مفعول معہ ہے اس لیے کہ یہ واو بمعنی ''مع ''کے بعد واقع ہے۔

3۔۔۔۔۔۔مفعول لہ ہے۔قُمْتُ اِکْرَاماً لِزَیْدٍ(میں زید کی تعظیم کے لیے کھڑا ہوا) اس میں اِکْرَاماً فعل مذکور کی علت ہے جسے حاصل کرنے کے لیے قیام کیا گیا۔ قَعَدتُ عَنِ الْحَرْبِ جُبُناً(میں بزدلی کے سبب جنگ سے بیٹھ گیا)اس میں جُبُناً بزدلی فعل مذکور کے لیے علت ہے۔(ف)مفعول لہ دو قسم پرہے:(۱)وہ جسے حاصل کرنے کے لیے فعل کیا جائے(۲)وہ جس کے موجود ہونے کی وجہ سے فعل کیاجائے ۔ 4۔۔۔۔۔۔(۱)جَاءَ زَیْدٌ رَاکِباً(زید سوار ہو کر آیا )اس میں رَاکِباًحال ہے جو فاعل کی حالت بیان کررہاہے یعنی :جب زید آیا تو سوار تھا۔(۲)ضَربْتُ زَیْداً مَشْدُوْداً(میں نے زید کو مارا جب کہ وہ بندھا ہوا تھا)اس میں مَشْدُوْداً مفعول بہ کی حالت کو ظاہر کررہاہے۔ یعنی جب اسے مار پڑی تو وہ بندھا ہوا تھا ۔(۳)لَقیتُ زیداً رَاکِبَیْنِ(میں زید سے ملا جب کہ ہم دونوں سوار تھے)اس
Flag Counter