اگر منادی مفردمعرفہ ہوتوعلامت رفع پر مبنی ہوگا(۱)۔جیسے:
یَازَیْدُ، یَازَیْدَانِ، یَامُسْلِمُوْنَ، یَا مُوْسٰی، یَا قَاضِیْ(۲)۔
تنبیہ:خیال رہے ان حروف میں سے اَیْ اورہمزہ مفتوحہ منادی قریب کی نداکے لیے ہیں، اَیَا اورھَیَا منادی بعید کے لیے اور یَا عام (۳)ہے۔
٭٭٭٭٭
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* مضاف ہو ۔جیسے:یَاطَالِعاً جَبَلاً(اے پہاڑ پر چڑھنے والے)اس صورت میں بھی منصوب ہوگا ۔ (۳)منادی غیر معین ہو۔ جیسے نابینا کہے:یَا رَجُلاً خُذْ بِیَدِیْ(اے کوئی مرد میرا ہاتھ پکڑ لے )اس وقت بھی منادی منصوب ہوگا ۔(۴)مفرد معرفہ ہو۔یعنی نہ مضاف ہو نہ مشابہ مضاف ہو، پھر خواہ پہلے سے معرفہ ہو یا بوجہ نداء معرفہ بن جائے۔جیسے:یَا زَیْدُ، یَارَجُلُ۔اس صورت میں یہ علامت رفع پرمبنی ہوگا۔
1۔۔۔۔۔۔یعنی اس حرکت یا حرف پرمبنی ہوگا جس سے اس کی حالت رفعی آتی ہے۔
2۔۔۔۔۔۔مصنف علیہ الرحمہ نے منادی مفرد معرفہ کی پانچ مثالیں ذکر فرمائی ہیں ؛ اس لیے کہ پہلی مثال:یَازَیْدُ۔ میں منادی مفرد معرفہ ہے اور ضمہ پر مبنی ہے۔دوسری مثال:یَازَیْدَانِ۔ میں منادی تثنیہ ہے اور الف نون پر مبنی ہے۔تیسری مثال: یَامُسْلِمُوْنَ۔ میں منادی جمع مذکر سالم اورواؤ نون پر مبنی ہے ۔ان تینوں مثالوں میں منادی علامت رفع لفظاًپر مبنی ہیں ۔چوتھی مثال:یَا مُوْسٰی۔میں منادی اسم مقصور ہے اور پانچویں مثال:یَا قَاضِی۔میں منادی اسم منقوص ہے ۔ ان دونوں مثالوں میں منادی علامت رفع تقدیراًپر مبنی ہیں۔
3۔۔۔۔۔۔کہ ہمزہ مفتوحہ اور اَیْ منادی قریب کے لیے ۔اَیَا اور ھَیَا منادی بعیدکے لیے اور یَا عام ہے یعنی منادی قریب اور بعید دونوں کے لیے ۔
(ف)اس سے معلوم ہوا کہ جو جہلاء عامۃ المسلمین کو یَارَسُوْلَ اللہِ کہنے سے روکنے کا ایک بہانہ یہ تراشتے ہیں کہ''حرف یا صرف منادی قریب کو پکارنے کے لیے آتاہے جبکہ حضور