Brailvi Books

نحو مِير
65 - 202
ساتھ مکرر ہو تو اسے پانچ طریقوں سے پڑھنا جائز ہے:
i۔۔۔۔۔۔لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللَّہِ (۱)    ii۔۔۔۔۔۔لَا حَوْلٌ وَلَا قُوَّۃٌ اِلَّا بِاللَّہِ

iii۔۔۔۔۔۔لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃٌ اِلَّا بِاللَّہِ       iv۔۔۔۔۔۔لَا حَوْلٌ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللَّہِ

 			v۔۔۔۔۔۔لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃً اِلَّا بِاللَّہِ
 (۵)۔۔۔۔۔۔حروف ندا(۲):     یہ پانچ حروف ہیں: 

(۱)یَا(۲)اَیَا(۳)ھَیَا(۴)اَیْ(۵)ھمزہ مفتوحہ۔

یہ حروف جس پر داخل ہوتے ہیں اسے''منادی''(۳) کہتے ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللَّہِ۔ ا س مثال میں لاکے بعد نکرہ مفردہ(حول)واقع ہے اورلا کی تکرار دوسرے نکرہ مفردہ (قوّۃ) کے ساتھ ہے ۔ ایسی ترکیب میں پانچ وجہیں ہیں:(۱)لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللَّہِ ۔ اس میں دونوں''لَا''نفی ِجنس کے لیے اور ہر نکرہ مبنی بر فتح۔ (۲)لاَ حَوْلٌ وَلاَ قُوّۃٌ پہلا لا نفی ِجنس کے لیے ہے اورملغیٰ عن العمل ہے اوردوسرا لاَ زائدہ تاکید ِنفی کے لیے۔ (۳)لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃٌ اِلَّا بِاللَّہِ۔ پہلا لا نفی جنس کے لیے ہے اوردوسرا زائدہ تاکید ِنفی کے لیے، دوسرا نکرہ پہلے نکرہ کے محل بعید پر معطوف ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے ؛کیونکہ پہلا نکرہ محلًّا(محل بعید کے اعتبار سے )مرفوع بسبب ابتدا ء ہے۔(۴)لاَ حَوْلٌ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللَّہِ۔ پہلا لامشابہ بلیس، اور دوسرا لا نفی جنس کے لیے ۔(۵)لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃً اِلَّا بِاللَّہِ۔ پہلا لا نفی جنس کے لیے اور دوسرا لا زائدہ اور نفی کی تاکید کے لیے ہے۔اس میں پہلا نکرہ مبنی بر فتح اور دوسرا نکرہ منصوب مع التنوین ؛ اس لیے کہ اس کا عطف پہلے نکرہ کے محل قریب پر ہے اور وہ محل قریب کے اعتبار سے منصوب ہے ۔ 

2۔۔۔۔۔۔اسم میں عمل کرنے والے حروف کی پانچویں قسم حروف نداہیں۔حروف ندایہ ہیں: یَاء، ھمزہ، اَیَا، اَیْ، ھَیَا۔منادی کے عامل میں تین مذہب ہیں :(۱)اَدْعُوْا عامل ہے جو وجوباً مقدر ہوتاہے اور حرف ندا اس کا قائم مقام ہوتاہے۔ (۲)حروف ندا خود عمل کرتے ہیں۔ (۳)حرف ندا اسم فعل ہے اور اَدْعُوْ کا ہم معنی ہے۔ 

3۔۔۔۔۔۔منادی :اس ذات کا اسم ہے جس کی توجہ حرف ندا کے ساتھ طلب کی گئی ہو ۔منادی کی چار صورتیں ہیں:(۱)مضاف ہو۔ جیسے :یَاعَبْدَ اللّہِ، یَارَسُوْلَ اللّہِ۔ اس صورت میں یہ منصوب ہوگا۔ (۲)مشابہ *
Flag Counter