Brailvi Books

نحو مِير
64 - 202
    (الف):اس لاَ کا اسم اکثر مضاف منصوب ہوتاہے اوراس کی خبر مرفوع ہوتی ہے۔ جیسے:
لَا غُلَامَ رَجُلٍ ظَرِیْفٌ فِي الدَارِ۔
    (ب):اگراس کا اسم مفرد نکرہ ہو تو مبنی بر فتحہ ہوگا۔جیسے:
لاَرَجُلَ فِی الدَّارِ۔
    (ج):اگراس کے بعداسم معرفہ ہوتو دوسرے معرفہ کے ساتھ ملا کر لَا کاتکرار لازم ہوگا اور
لَا مُلغٰی عَنِ العَمَل
ہوجائے گایعنی کچھ بھی عمل نہیں کریگا ۔اور یہ اسم معرفہ مبتداہونے کی بناء پرمرفوع ہوگا۔جیسے:
لَا زَیْدٌ عِنْدِیْ وَلَا عَمْرٌو(۱)۔
    (د):اگراس لا کے بعدمفرد نکرہ ہو، اور لا ایک اور نکرہ مفردہ کے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* سے خبر کی نفی کرتاہے۔ لائے نفی جنس کے اسم کی تین قسمیں ہیں ان تینوں صورتوں میں لاکی خبر مرفوع ہی ہوگی :(۱)لاکااسم نکرہ، مضاف ہو اور ان دونوں کے درمیان فاصلہ نہ ہو۔ جیسے:لَا غُلَامَ رَجُلٍ ظَرِیْفٌ فِي الدَّار(مرد کا کوئی غلام گھر میں زیرک نہیں ہے۔)(۲)لا کااسم بغیر فاصلے کے ہو اور مشابہ مضاف ہو ۔جیسے:لاَ عِشْرِیْنَ دِرْھَماً لَکَ۔مشابہ مضاف وہ اسم ہے جس کا معنی دوسرے کلمہ سے ملائے بغیر مکمل نہ ہوجس طرح مضاف کا معنی مضاف الیہ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا عِشْرِیْنَ کا معنی بیس ہے جو دِرْھَماً کے بغیر مکمل نہیں ہوتا ۔ ان دونوں صورتوں میں لا کا اسم منصوب (معرب)ہوگا۔ (۳)لا کا اسم فاصلے کے بغیر نکرہ مفردہ ہو۔ جیسے:لاَرَجُلَ فِي الدَّارِ(گھر میں کوئی مرد نہیں)اور(لاَ رَیْبَ فِیہِ)یہاں مفرد سے مرادیہ ہے کہ وہ مضاف اور مشابہ مضاف نہ ہو۔اس صورت میں لا کا اسم علامت نصب پر مبنی ہوگا۔ لیکن محلاًّ اب بھی منصوب ہی مانا جائے گا ۔

1۔۔۔۔۔۔ لَا زَیْدٌ عِنْدِیْ وَلَا عَمْرٌو میں لا کے بعد معرفہ مفردہ واقع ہے یعنی نہ نکرہ ہے نہ مضاف نہ مشابہ مضاف، ایسی صورت میں لا کی تکرار دوسرے معرفہ کے ساتھ واجب ہے ۔اسی طرح اگرلَااور اس کے اسم میں فاصلہ ہو تو لا کی تکرار دوسرے اسم کے ساتھ واجب ہے ۔اور ان دونوں صورتوں میں لَا ملغیٰ ہوگا یعنی عمل نہیں کریگااورنہ اس کے بعد واقع ہونے والے اسم کو لا کا اسم کہیں گے؛کیونکہ یہ اسمِ لا تب ہوتا جبکہ لا اس میں عمل کرتا۔بلکہ وہ ابتداء کی وجہ سے مرفوع ہوگا۔ جیسے:لاَ ِفی الدَّارِ رَجُلٌ وَلاَ اِمرْأَۃٌ۔
Flag Counter