Brailvi Books

نحو مِير
63 - 202
 (۲)۔۔۔۔۔۔حروف مشبہ بالفعل:

    یہ کل چھ حروف ہیں :
اِنَّ(۱)، اَنَّ، کَأَنَّ، لٰکِنَّ، لَیْتَ، لَعَلَّ۔
ان حروف کا ایک اسم ہوتاہے جومنصوب ہوتاہے اور ایک خبر ہوتی ہے جومرفوع ہوتی ہے ۔جیسے:
اِنَّ زَیْداً قَائِمٌ۔
اس میں ''زَیْداً''اِنّ کا اسم ہے اور''قَائِمٌ'' اِنَّ کی خبر ہے۔

تنبیہ: خیال رہے کہ اِنّ اور اَنّ حروف تحقیق ہیں ،کَاَنَّ حرف تشبیہ ہے، لٰکِنَّ حرف استدراک ہے ،لَیْتَ حرف تمنّی ہے اورلَعَلَّ حرف ترجیّ ہے ۔
 (۳)۔۔۔۔۔۔مَا ولَا مشبہتان بِلَیْسَ:
    یہ دونوں لَیْسَ کی طرح عمل کرتے ہیں یعنی :اپنے اسم کو رفع اور خبر کو نصب دیتے ہیں(۲)۔ جیسے :
مَازَیْدٌ قَائِماً۔
میں زَیْدٌ مَا کا اسم اورقَائِماً اس کی خبر ہے۔

(۴)۔۔۔۔۔۔لائے نفی جنس(۳): 

    لائے نفی جنس کے عمل کی تفصیل یہ ہے :
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

		بَاء، تَاء  وکَاف ولاَم  و وَاوُ  مُنْذُ  مُذْ  خَلاَ

 		رُبَّ حَاشَا مِنْ عَدَا فِیْ عَنْ عَلٰی حَتّٰی اِلٰی

1۔۔۔۔۔۔ اِنَّ مضمون جملہ کی تاکید کے لیے آتاہے۔اَنَّ جملہ کو مفرد کی تاویل میں کردیتاہے۔ جہاں جملہ کا مقام ہو وہاں اِنَّ اور جہاں مفرد کا مقام ہووہاں اَنَّ پڑھاجائے گا ۔مثلاً کلام کی ابتداء میں اسی طرح قَالَ اور اس کے مشتقات کے بعد اِنَّ اوردرمیان کلام میں اور عَلِمَ اورظَنَّکے بعداَنَّ پڑھاجائے گا۔ (ف)استدراک کا معنی ہے گزشتہ کلام سے پیدا ہونے والے وہم کو دور کرنا۔(ف)تشبیہ کہتے ہیں ایک چیز کو دوسری چیزکے ساتھ کسی وصف میں شریک کرنا۔(ف)تمنی کا معنی ہے کسی چیز کے حصول کی آرزو کرنا خواہ اس کا حصول ممکن ہو یا ناممکن (ف)ترجی کامعنی ہے کسی پسندیدہ یا ناپسندیدہ چیزکے حصول کی توقع کرناجس کے حصول کا وثوق نہ ہو۔ 

2۔۔۔۔۔۔اسم میں عمل کرنے والے حروف کی چوتھی قسم لائے نفی جنس ہے یعنی وہ لاَجو اپنے اسم کی جنس  *
Flag Counter