بَاء، تَاء، مِنْ، اِلٰی، حَتّٰی، فِیْ، لَام، رُبَّ، وَاوِقسم، عَنْ، عَلٰی،کَافِ تشبیہ، مُذْ، مُنْذُ، حَاشَا، خَلاَ، عَدَا(۲)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔یہاں مصنف علیہ الرحمہ عوامل اور ان کا طریقہ عمل بیان فرمارہے ہیں۔عامل :وہ شے جس کے سبب معرب کے آخر میں مخصوص اثر ظاہر ہو ۔جیسے:جَاءَ زَیْدٌ میں جَاءَعامل ہے اس کی وجہ سے زَیْدٌ کے آخر میں ضمہ آگیا ہے ۔اَلْمَالُ لِزَیْدٍ میں لام عامل ہے اس کے سبب زَیْدٍ کے آخر میں جر آگئی ۔ عامل لفظی کی تین قسمیں ہیں: (۱)حروف(۲) افعال(۳) اسماء ۔
2۔۔۔۔۔۔حضرت امیر خسرورحمۃ اللہ علیہ نے حروف جارہ کو اس طرح ایک شعر میں قلمبند کیا ہے: